تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 163 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 163

تاریخ افکا را سلامی NF چاہئے اور اگر اصرار ہی ہے تو سلام اللہ قدیم کہنے میں نجات ہے۔اُسے مخلوق قرار دینا بدعت ہے لیکن آخر عمر میں مامون الرشید کا یہ اصرار بڑھ گیا کہ لوگوں سے زبر دستی منوایا جائے کہ قرآن کریم جو کلام اللہ ہے مخلوق ہے۔اس دار و گیر میں امام احمد اور محمد بن نوح کو گر فتا ر کیا گیا ان کو مامون الرشید کے سامنے پیش کرنے کے لئے الرقہ یا طرَ سُوس لے جایا جا رہا تھا کہ مامون کی وفات ہوگئی لیکن مرنے سے پہلے وہ اپنے جانشین المعتصم کو وصیت کر گیا کہ زیر دستی کی اس پالیسی کو جاری رکھا جائے ہے محمد بن نوح تو راستہ میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے امام احمد بن جنبل کو پابجولاں واپس بغداد لایا گیا کچھ دن قید خانے میں رکھنے کے بعد ان کو نئے خلیفہ ابو اسحاق المعتصم کے سامنے پیش کیا گیا۔معتصم نے ہر طرح کوشش کی اور سمجھایا کہ امام احمد اُس کی بات مان لیں آپ نے اپنے موقف پر اصرار کیا۔اس پر اہمعتصم غصہ میں آگیا اور حکم دیا کہ آپ کو کوڑے لگائے جائیں۔کوڑوں کی تکلیف کی وجہ سے آپ کئی باربے ہوش ہو جاتے تھے لیکن استقامت میں ذرا بھی فرق نہ آنے دیا۔اس طرح آپ نے اٹھائیس ماہ کے قریب قید و بند اور کوڑوں کی سختیاں جھیلیں۔آخر تنگ آکر حکومت نے آپ کو رہا کر دیا۔ان تختیوں کی وجہ سے امام احمد بہت کمزور ہو گئے تھے ایک عرصہ تک چلنا پھرنا بھی مشکل رہا۔جب آپ تندرست ہوئے تو پھر سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔ابتلاء کے زمانہ میں صبر واستقامت دکھانے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں آپ کی قدر و منزلت بہت بڑھ گئی اور ہر طرف سے عقیدت کے پھول برسنے لگے تھے۔المعتصم کی وفات کے بعد الواثق جانشین ہوا۔شروع شروع میں اس نے بھی سختی جاری رکھی۔امام احمد کے بارہ میں اُس نے حکم دیا کہ وہ نہ کوئی فتوی دے سکتے ہیں اور نہ پڑھا سکتے ہیں کوئی ان کے پاس جا بھی نہیں سکتا۔وہ اس شہر میں بھی نہیں رہ سکتے اس وجہ سے آپ نے کچھ عرصہ چھپ کر وقت گزارا۔آخری عمر میں واثق سختی کی اس پالیسی سے تنگ آگیا تھا بلکہ قرآن مخلوق ہونے کا الامام احمد بن حنبل صفحه ۱۲۳ قيل كتب هذه الوصية احمد بن ابی داؤد شيخ من شيوخ المعتزلة الخصم العنيد للفقهاء والمحدثين (محاضرات صفحه (۳۱۸)