تاریخ افکار اسلامی — Page 165
تاریخ افکار را سلامی ۱۶۵ امام احمد حدیث اور فقہ کے ماہر تھے۔صبر و استقامت کا پہاڑ ، بلند ہمت ، كريم الشجية طلقَ الوَجهِ ، شَدِيدُ الحَيَاء ، بڑے تقی ، عابد اور زاہد تھے یا آپ کا درس لائق شاگردوں کے دل موہ لیا کرتا تھا۔جب آپ ۲۴۱ ھ میں اٹھتر سال کی عمر میں فوت ہوئے تو سارا بغداد ماتم کدہ بن گیا۔لاکھوں آدمی آپ کے جنازہ میں شریک ہوئے اور لوگوں نے محسوس کیا کہ آج ان کا ایک بہت بڑا امام اُن سے رُخصت ہو گیا ہے۔امام احمد کی فقہی آراء عقائد اور سیاست کے بارہ میں آپ کا نظریہ سلف صالحین کی آراء کے تابع تھا۔آپ کا کہنا تھا کہ عقائکہ میں سیدھا مسلک یہی ہے کہ قرآنی تصریحات کی پابندی کی جائے۔احادیث سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے اسی پر اکتفا کی جائے۔سیاسی لحاظ سے حکام وقت کی اطاعت واجب ہے اُن کے خلاف تلوار اُٹھانا منع ہے کیونکہ تلوار نظم ونسق، امن و امان کو تباہ کر دیتی ہے۔البتہ حسب موقع ومحل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وعظ و تلقین اور کلمتہ الحق کہنے میں کوئی کمی نہیں آنے دینا چاہیے یہ ہر حال میں واجب ہے۔کے امام احمد امام الحدیث اور فقیہ اللہ تھے تاہم بعض علماء نے ان کے فقیہ ہونے کا انکار کیا ہے امام ابن جریر طبری نے اختلاف انتہاء کے موضوع پر ایک کتاب لکھی اس میں امام احمد کا ذکر نہ کیا تو لوگوں نے اعتراض کیا۔آپ نے کہا۔امام احمد محدث تھے فقیہ نہ تھے اس لئے ان کا ذکر فقہاء کے ضمن میں نہیں کیا گیا۔اس پر لوگ مشتعل ہو گئے ، ابن جریر کے مکان پر پتھراؤ کیا ، بڑی مشکل سے جان بچی سے اس سب کچھ کے با وجود امام احمد کی فقہی آراء اور آپ کے فتاوی کا ایک بڑا مجموعہ ل جمع الامام احمد بن الفقر والجود والعفة والعزة والاباء والعفو تفصیل کیلئے دیکھیں الامام احمد صفحه ۱۱۹۰۱۱۷۰۱۱۴- محاضرات صفحه ۳۳۷ تا ۳۴۱ كان يقول رحمة الله عليه القرآن ليس بمخلوق وليس معنى ذالك انه قديم۔وقال النبي لا تماروا في القرآن فان مراء فيه "كفر - محاضرات صفحه ۳۲۶ محاضرات صفحه ۳۴۳ الامام احمد بن حنبل صفحه ۲۱۲