تاریخ افکار اسلامی — Page 159
تاریخ افکا را سلامی ۱۵۹ حضرت امام شافعی نے مدینہ منورہ سے واپس آنے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک پوتی حمیدہ نامی خاتون سے شادی کی جس سے آپ کو اللہ تعالی نے لڑکا عطا کیا آپ نے اُس لڑکے کا نام محمد رکھا اور کنیت ابو عثمان تجویز کی جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو حضرت عثمان سے بڑی عقیدت تھی۔امام شافعی متوسط القامہ با رعب شخصیت کے مالک تھے۔غنی النفس اور سخاوت پسند طبیعت پائی تھی۔جب بھی کسی خلیفہ یا دوست کی طرف سے بطور نذرانہ کوئی رقم آئی طلبہ اور مستحقین میں تقسیم کردی یا خرید کتب میں صرف کی۔آپ کے فقہی مسلک کے بارہ میں ضروری تفصیلات سطور بالا میں گزرچکی ہیں۔امام شافعی کا کام امام شافعی کا بنیادی مسلک یہ تھا کہ احکام شرعیہ کی بنیا دیا تو نصوص ہیں یا پھر قیاس جو اُن علل اور وجوہات پر مبنی ہو جو نصوص میں مد نظر رکھی گئی ہیں اور ایک مجتہد کے لئے اُن تک رسائی مشکل نہیں ہونی چاہئے۔آپ کا ایک کارنامہ اُصول فقہ کی تدوین اور ایسے ضوابط کی تعیین ہے جن پر احکام شریعت مینی ہونے چاہئیں۔علماء نے لکھا ہے کہ حضرت امام شافعی علم اصول فقہ کے بانی ہیں۔دوسرے مکتب ہائے فکر نے آپ کے بعد اس علم کی تدوین کی طرف توجہ مبذول کی۔والفضل للمتقدم - حکومت کے بارہ میں آپ کا نظریہ وہی تھا جو دوسرے ائمہ فقہ کا تھا جس کی تفصیل اپنی جگہ گزر چکی ہے ہے۔الامام الشافعي صفحه ۱۸۳۰۴۱ الامام الشافعي صفحه ۱۱۳