تاریخ افکار اسلامی — Page 158
۱۵۸ صبح جب ناشتہ وغیرہ کے بعد آپ روانہ ہونے لگے تو آپ نے اُس شخص کا دلی شکر یہ ادا کیا کہ اُس کی وجہ سے انہیں بہت آرام ملا۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے۔وہ شخص کہنے لگا شکریہ تو رہنے دیجئے۔جزائے خیر بھی اپنی جگہ ہے لیکن میرے اخراجات جو میں نے آپ کو آرام پہنچانے کے سلسلہ میں کئے ہیں وہ اتنے ہیں۔رات میں نے اور میری بیوی نے بڑی تنگی سے گزاری ہے اور اپنا آرام دہ کمرہ آپ کو دیا ہے اس کا کرایہ اتنا ہے ، کھانے کے اخراجات یہ ہیں ، آپ کی سواری کے چارہ کے اتنے دام میں غرض عام اندازہ سے کئی گناہ زیادہ رقم کا اُس نے مطالبہ کیا۔امام شافعی کہتے ہیں کہ مجھے علم فراست کے درست ہونے کا یقین ہو گیا اور اپنے غلام کو کہا کہ جو کچھ یہ مانگتا ہے اسے دے دو اور یہاں سے جلدی نکلوے امام شافعی پر اعتراضات امام شافعی پر جو اعتراض کئے گئے ان میں سے بعض کا ذکر سطور بالا میں آچکا ہے۔آپ پر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ شیعہ ہیں کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور آپ کی اولاد سے تعلق محبت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن تاریخ میں آپ کے جو حالات لکھے ہیں وہ شیعیت کے الزام کی تردید کرتے ہیں۔آپ خلفاء راشدین کی جلالت شان ان کی ترتیب اقدمیت اور افضلیت کے قائل تھے البتہ دوسرے سگی مسلمانوں کی طرح حضرت علی کے مقابلہ میں امیر معاویہ کو ناحق اور نا فرمانی کا مرتکب قرار دیتے تھے۔علاوہ ازیں باغیوں کے بارہ میں اسلام کے جو احکام ہیں ان کی تشریح اور تفصیل کے سلسلہ میں جو کتاب السیر “ کے نام سے لکھی تھی اس میں حضرت علیؓ کے طرز عمل کو سند کے طور پر پیش کیا تھا کیونکہ آپ کو ہی پہلی مرتبہ مسلم باغیوں سے سابقہ پڑا تھا۔اس صورت حال کو بعض لوگوں نے تمام سمجھا اور الزام لگایا کہ گویا آپ شیعیت سے متاثر ہیں۔اسی قسم کے الزامات سن کر آپ نے ایک دفعہ تمثیل کی غرض سے یہ شعر پڑھا۔إن كانَ رَفضًا حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلانِ أَنِّي رَافِضِي الامام الشافعي صفحه ۷۸ کے الامام الشافعی صفحه ۱۱۴، ۱۳۷- ابو حنيفه صفحه ۱۴۳- محاضرات صفحه ۲۵۳