تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 157 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 157

تاریخ افکار را سلامی ۱۵۷ امام شافعی: اچھا یہ بتائیے کہ ایک بڑا خاندانی عوام میں عزت دار امیر کسی کی معمولی لونڈی کو ورغلا کر اس سے نکاح کر لیتا ہے جبکہ لونڈی کا مالک راضی نہیں۔نکاح کے بعد اس سے دس لڑکے پیدا ہوتے ہیں جو سب کے سب بڑے لائق عالم فاضل حکومت وقت کے عہدہ دار ہیں۔لونڈی کا ما لک دعوی کرتا ہے کہ یہ لونڈی تو اس کی تھی جسے اس امیر نے مجھ سے چھین لیا تھا مجھے واپس دلائی جائے۔آپ کا فیصلہ کیا ہو گا؟۔امام محمد : لونڈی اور اُس کے سارے بچے مالک کو واپس دلائے جائیں گے اور یہ سب کے سب اس کے غلام ہوں گے لونڈی کی ساری اولاد ما لک کی غلام ہوتی ہے۔امام شافعی: آپ کا لا ضَرَرَ وَلا ضرار کا اصول کہاں گیا۔کیا مکان گرانے کا حکم دینا زیادہ ضرر رساں ہے یا اتنے بڑے لائق اور قابل عاقل بالغ دس افراد کو غلامی کے چکر میں ڈالنا اور اس ذلت سے ان کو دو چار کرنا۔امام محمد اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکے اور خاموش ہو گئے ہلے امام شافعی اور تعلیم فراست امام شافعی بڑے قیافہ شناس بھی تھے اور علیم فراست کا آپ نے مطالعہ بھی کیا تھا۔ایک دفعہ اس علم کے آزمانے کا آپ کو موقع ملا۔آپ یمن کے کسی شہر میں اپنے کام سے گئے۔شام کے وقت پہنچے۔بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک شخص کو دیکھا نیلی آنکھیں عجیب سا چہرہ اپنے مکان کے سامنے کھڑا تھا۔امام صاحب کے دل میں خیال آیا کہ یہ شخص خبیث الفطرت اور بدطینت لگتا ہے۔بہر حال چونکہ شام پڑ رہی تھی آپ نے کہیں ٹھہر نا بھی تھا۔آپ نے اس شخص سے پوچھا کوئی رہائش کی جگہ ملے گی۔وہ شخص کہنے لگا۔بسم اللہ خاکسار کا گھر حاضر ہے۔اُس شخص نے آپ کی بڑی آؤ بھگت کی۔صاف ستھرا بستر ہعمدہ لذیذ کھانا ہسواری کے جانور کے لئے چارہ۔غرض رات بڑے آرام سے گزری۔آپ دل میں افسوس کرنے لگے کہ اتنے اچھے نیک انسان کے بارہ میں خواہ مخواہ بدگمانی کو راہ دی۔یہ علم فراست تو بالکل فضول لگتا ہے۔L قال الشافعي انشدك الله اى همين اشد ضررًا ان تقلع الساحة وترد مالكها او تحكم برق هولاء الاولاد۔۔۔۔۔۔(الامام الشافعي صفحه ۸۳۲۸۱)