تاریخ افکار اسلامی — Page 156
تاریخ افکار را سلامی ۱۵۶ - اگر اس میں ایسی زیادتی ہوتی ہے جو منصوبہ چیز کے ساتھ متصل ہے مثلا زمین پر مکان بنالیا ہے۔کاغذ غصب کیا تھا اس پر مضمون لکھا اور کتاب کی شکل میں جلد بنا لی۔سونا چھینا تھا اس کو زیور بنالیا۔کپڑا چھینا تھا اس کا گرنا یا پاجامہ بنو الیا تو اس صورت میں بھی مالک کو قیمت ہی دلائی جائے گی۔البتہ اگر زیا دتی منفصل ہے اور اس کا الگ وجود ہے مثلاً گائے چھینی تھی اس نے بچہ جنا تو منصوبہ گائے مع بچہ کے مالک کو واپس جائے گی۔شافعی تیسری شق کے خلاف ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی مالک کا حق ہے کہ وہ اپنی مملوکہ چیز واپس لے۔البتہ غاصب اگر چاہے تو بنے ہوئے مکان کو گرا کر اُس کا ملبہ لے جاسکتا ہے۔بہر حال بحث کا آغاز یوں ہوا۔امام محمد : ایک شخص نے کسی کی زمین پر قبضہ کر کے اس پر لاکھوں روپیہ کا خوبصورت مکان " بنالیا۔زمین بڑی معمولی قیمت کی تھی بتائیے ایسی صورت میں آپ کا موقف کیا ہے؟ امام شافعی زمین مالک کو واپس دلائی جائے گی البتہ اگر غاصب چاہے تو اپنا ملبہ اٹھا کر لے جا سکتا ہے۔بہر حال مالک کو مکان خرید نے یا زمین بیچنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔امام محمد: اچھا ایک شخص نے لکڑی کے تختے چھینے اور اُن سے کشتی کی مرمت کی اور کشتی سواریاں لے کر سفر پر روانہ ہوگئی عین سمندر میں تختوں کے مالک نے مطالبہ کیا کہ ابھی میرے تختے واپس کرو۔آپ کا فیصلہ کیا ہوگا ؟ امام شافعی: مالک کا فوری واپسی کا مطالبہ درست نہیں ہوگا البتہ جب کشتی واپس کنارے پر لگے گی تو وہ تختوں کو واپس لینے کا حقدار ہوگا۔خواہ ان کے اُکھیڑنے سے کشتی کے مالک کو نقصان ہی پہنچے۔اسی طرح کے کچھ اور سوال ہوئے جن کی تفصیل باعث تطویل ہے۔امام محمد کی آخری دلیل ی تھی کہ مکان بنانے والے کو مکان گرانے اور مکان کا ملبہ اُٹھانے کے لئے کہنا اصول " لا ضرر وَلَا ضِرار " کے خلاف ہے۔اتنا قیمتی مکان گرانا دولت کا ضیاع ہے اور مجرم کے مقابلہ میں سزا بہت زیادہ ہے خصوصاً جبکہ وہ زمین کی معہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیار ہے اور مالک کا بظاہر اس میں کوئی نقصان بھی نہیں۔