تاریخ افکار اسلامی — Page 126
تاریخ افکار را سلامی IFY نے کہا یہ رائے زیادہ درست ہے ہم سب غلط سمجھ رہے تھے۔حسن بن عمارہ نے یہ سن کر کہا ابو حنیفہ اگر چاہتے تو اپنی رائے پر اصرار کر سکتے تھے لیکن اپنے تقویٰ کی وجہ سے وہ حق کے سامنے جھک گئے اے ایک دفعہ حکومت کی طرف سے آپ پر پابندی لگی کہ آپ نہ کوئی فتویٰ دے سکتے ہیں اور نہ کوئی مسئلہ بتا سکتے ہیں۔آپ کے بیٹے حماد نے گھر میں کسی مسئلہ کے بارہ میں پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا مجھے حکومت نے مسئلہ بتانے سے منع کیا ہوا ہے۔اگر حکومت کا کوئی افسر پوچھے کہ تم نے کسی کو کوئی مسئلہ بتایا تھا تو اس وقت میرا جواب کیا ہو گا۔ہے حضرت امام ابو حنیفہ اپنے ہمعصر علماء سے ممکن حد تک دوستانہ اور مخلصانہ تعلقات رکھتے تھے۔حضرت امام مالک کا بڑا احترام کرتے جب بھی ملتے مسائل دینیہ پر تبادلہ خیال رہتا۔دوسرے اعتدال پسند علماء کے ساتھ بھی تعلقات کا یہی اندا ز تھا امام ابو حنیفہ نے بڑی بے نیاز اور قناعت پسند طبیعت پائی تھی۔ایک دفعہ ابو جعفر منصور کی ایک بیوی نے آپ سے ایک مسئلہ پوچھا آپ نے جو جواب دیا وہ اسے اس قدر پسند آیا کہ اس نے خوش ہو کر آپ کی خدمت میں پچاس ہزار درہم ایک لونڈی اور سواری کا گھوڑا بطور نذرانہ بھیجوایا لیکن آپ نے کہلا بھیجا کہ میر افتویٰ کسی انعام کے لالچ کے پیش نظر نہ تھا۔مجھے جو حق نظر آیا وہ بیان کر دیا چنانچہ شکریہ کے ساتھ آپ نے یہ تھنہ واپس کر دیا ہے امام ابو حنیفہ اور حاضر جوابی امام ابو حنیفہ بڑے حاضر جواب تھے سخت سے سخت حالات میں بھی آپ ایسی بیدار مغزی کے ساتھ صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کرتے کہ سب حیران رہ جاتے۔L آپ کے زمانہ میں خوارج کے فتنے کا خاصا زور تھا یہ لوگ عموماً اُجڈ ، جہور پسند اور دنگا فساد ابوحنيفه صفحه ۸۸ ابو حنيفه صفحه ۴۱ ابو حنيفه صفحه ۶۵ تا ۶۷ و ۱۸۷ و الامام الشافعی صفحه ۷۰ ابوحنیفه صفحه ۲۲۱