تاریخ افکار اسلامی — Page 127
تاریخ افکا را سلامی ۱۲۷ کے لئے ہمیشہ تیار رہنے والے اور اپنے اصول کے بڑے کے تھے۔ایک دفعہ خوارج کا ایک گروپ اچانک کوفہ کی جامع مسجد میں آ گھسا۔امام ابو حنیفہ پڑھارہے تھے۔آپ نے سب سے کہا کوئی گھبرا ہٹ کا اظہار نہ کرے اور پورے سکون سے بیٹھا رہے۔گروپ کا سردار آیا اور بڑی درشتی سے پوچھنے لگا آپ کون لوگ ہیں؟ امام صاحب نے برجستہ جواب دیا نَحْنُ مُسْتَجِيرُونَ ہم پناہ گیر ہیں خارجی سمجھے ان کا اشارہ اُس آیت کی طرف ہے جس میں آتا ہے کہ اگر کوئی مشرک تم سے قرآن کریم سننے کے لئے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو تا کہ وہ اللہ کے کلام کوسن سکے اس کے بعد اُن کو پُر امن جگہ یعنی ان کے گھروں تک پہنچا دو یا بہر حال سردار نے اپنے آدمیوں سے کہا ان کو قرآن کریم سناؤ اور پھر بحفاظت گھروں تک پہنچا دو۔اس طرح آپ کی حاضر دماغی کے طفیل نہ صرف سب کی جانیں بچ گئیں بلکہ وہ بحفاظت اپنے اپنے گھر بھی پہنچ گئے ہے ایک دفعہ کچھ خارجی آدھمکے۔خارجیوں کے سردار خاک بن قیس نے امام صاحب سے کہا کہ اگر تم تحکیم ( علی اور معاویہ کے درمیان حکم مقرر کرنے کے واقعہ ) کے جائز ہونے کے قائل ہوتو اس عقیدہ سے تو یہ کرو ورنہ ہم تمہیں قتل کرتے ہیں۔امام صاحب نے جواب میں فرمایا زیر دستی کرنا چاہتے ہو یا دلیل سے بات کرنے کا موقع دو گے؟ اس نے کہا ہاں ہاں اگر کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔آپ نے کہا یہ کون فیصلہ کرے گا کہ دلیل ٹھیک ہے یا غلط؟ اُس نے کہا کسی کو ثالث مان لیتے ہیں۔آپ نے کہا ٹھیک ہے تمہارے ہی گروہ کے فلاں آدمی کو ثالث مان لیتے ہیں۔ضحاک نے کہا ٹھیک ہے۔اب اپنی دلیل پیش کرو۔آپ نے برجستہ جواب دیا اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوگی کہ آپ نے خود ثالثی کی تجویز کو تسلیم کر لیا ہے اور اسی کا نام تو تحکیم ہے۔ضحاک شرمندہ ہو کر چپ کا چپ رہ گیا۔ہے ایک دفعہ خوارج ہی کا ایک گروہ آپ کے پاس آیا۔تلواریں ان کے ہاتھ میں تھیں۔وہ چونکہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر اور دائمی جہنمی سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے آپ سے کہا ہم تم سے دوسوال پوچھتے ہیں ان کا جواب دو ورنہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔آپ نے فرمایا سوال کیا ہیں؟ التوبة : 4 محاضرات صفحه ۱۶۱ ابو حنيفه صفحه ۶۳