تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 117 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 117

میں شرکت کے مترادف ہوتی اور ائمہ دین یہ تاثر دینے سے پر ہیز کرتے تھے اور کسی درجہ میں بھی حکومت کا آلہ کا رہنے کے لیے تیار نہ تھے۔ایک دفعہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے آپ سے کہا کہ آپ قضاء کا عہدہ کیوں قبول نہیں کرتے آپ نے جواب دیا کہ میں اس عہدہ کے لیے اپنے آپ کو اہل نہیں پاتا۔منصور نے غصہ کے انداز میں کہا آپ جھوٹ بولتے ہیں آپ پوری طرح اس عہدہ کے اہل ہیں۔امام صاحب نے بڑے ادب سے عرض کیا کہ اس کا فیصلہ خود امیر المومنین نے کر دیا ہے۔اگر میں جھوٹ بولتا ہوں جیسا کہ امیر المومنین نے فرمایا ہے تو جھوٹا آدمی قاضی نہیں بن سکتا اور وہ اس ذمہ داری کا اہل نہیں۔یہ یہ جستہ جواب سن کر منصور گم سم ہو کر رہ گیا اور اسے کوئی مزید سوال کرنے کی جرات نہ ہوئی۔لے ایک اور موقع پر ابو جعفر منصور نے آپ سے خطگی کے رنگ میں کہا۔میری حکومت میں نہ آپ کوئی عہدہ قبول کرتے ہیں اور نہ میری طرف سے بھجوائے گئے تحائف اور نذرانے لیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حکومت کے مخالف ہیں۔آپ نے جواب دیا یہ بات نہیں۔قضاء کی ذمہ داریاں میں اٹھا نہیں سکتا۔امیر المومنین جو تحفہ دینا چاہتے ہیں وہ امیر المومنین کا ذاتی مال نہیں بلکہ بیت المال کی رقم ہے جس کا میں مستحق نہیں کیونکہ نہ میں فوجی ہوں اور نہ فوجیوں کے اہل وعیال سے میرا کوئی تعلق ہے اور نہ میں محتاج اور ضرورتمند ہوں اور بیت المال میں انہی گروہوں کا حق ہے۔جب میں اس رقم کا حقدار نہیں تو اس کالینا میرے لیے کیسے جائز ہوسکتا ہے۔اس پر منصور نے کہا کہ آپ یہ مال لے کر غرباء میں تقسیم کر سکتے ہیں۔آپ نے جواب دیا امیر المومنین کے وسائل مجھے درویش سے زیادہ ہیں۔آپ اچھی طرح جان سکتے ہیں کہ کون غریب ہے اور کون امیر اس لیے آپ کی تقسیم زیادہ مناسب ہوگی۔+ غرض آپ نے سختیاں برداشت کیں، خلفاء اور حکام کے ظلم ہے ، کوڑے کھائے ، قید و بند کے مصائب جھیلے ، کوفہ چھوڑ کر دار الامان مکہ کی طرف ہجرت کی لیکن حکومت وقت کا نہ کوئی عہدہ اختیار ↓ ابو حنیفه صفحه ۲۰۲