تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 118 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 118

تاریخ افکار را سلامی IIA کیا اور نہ کوئی انعام یا نذرانہ قبول کیا۔کوئی عہدہ قبول نہ کرنے کی وجہ ایک جگہ آپ نے خود بیان کی ہے۔بنوامیہ کی طرف سے والی کو فہ ابن بیرہ نے جب آپ سے کہا کہ آپ محکمہ قضاء میں یہ عہدہ قبول کریں کہ حکومت کی مہر آپ کے پاس رہے اور جب تک آپ کی مہر ثبت نہ ہو کسی کا فیصلہ نافذ نہ ہو۔اس پر آپ نے فرمایا هُوَ يُرِيدُ مِنِى أَنْ يَكْتُبَ دَمَ رَجُلٍ يَضْرِبُ عُنُقَهُ وَاخْتِمُ أَنَا على ذَالِكَ الْكِتَابِ فَوَاللَّهِ لَا أَدْخُلُ فِي ذَالِكَ ابلا کہ ابن سیرہ کا مقصد یہ ہے کہ وہ کسی کے قتل کا فیصلہ کرے اور میں اس پر اپنی مہر تصدیق ثبت کروں ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔پران ابو جعفر منصور کے اصرار کے بارہ میں آپ نے فرمایا لا يصلح للقضاء إِلَّا رَجُلٌ يكون له نفس يحكم بها عليک و علی ولدک و فؤادک و ليست تلك النفس لی یعنی قاضی ایسے دل گروہ کا ہونا چاہیے کہ اگر اسے آپ کے خلاف یا آپ کے بیٹوں اور سرداران لشکر کے خلاف فیصلہ کرنا پڑے تو بے دھڑک کرے لیکن میرا یہ دل گر وہ نہیں ہے۔دراصل آپ علم و عمل کی تربیت کے لیے اپنے آپ کو وقف رکھنا چاہتے تھے۔دوسرے ائمہ فقہ کا بھی یہی انداز فکر تھا کہ حکومت کا کوئی عہدہ قبول کرنے کی بجائے حکومت کی ذمہ داریاں قبول کرنے والوں کی علمی اور عملی تربیت کا فریضہ سر انجام دیں تا کہ وہ پبلک کی بہتر خدمت کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ ان ائمہ دین کے تربیت یافتہ علماء اور صلحاء نے بعد میں حکومت کے بڑے عہدے کئے کے ذریعہ کا فریضہ سرانجام اور قبول کئے اور اپنے علم اور اپنے انصاف کے ذریعہ عوام کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیا اور اپنی رہنمائی کے کارناموں میں شہرت دوام پائی ہے حضرت امام ابو حنیفہ نے ایک دفعہ اپنے شاگردوں کو جمع کیا۔ان میں آپ کے ممتاز اور شہرت یافتہ شاگر دکھی تھے جن کی چالیس کے قریب تعداد تھی اور وہ آپ کی مجلس فقہ کے رکن تھے۔آپ نے ان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا۔میں نے تمہاری علمی اور عملی تربیت اس رنگ میں کی ہے کہ اب تم ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل بن گئے ہوا اور حکومت کے منہ زور گھوڑے کو قابو میں رکھ سکتے ہو۔صدق و ثبات کے قدم مضبوطی کے ساتھ جما سکتے ہو۔چنانچہ اللہ تعالی نے آپ کی محنت کو L محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحه ۱۲۸ و ۱۷۲ و مالک بن انس صفحه ۱۹۹ ا۔الوحيق صفحه ۲۰۱۰۱۱۶۳۱۰۵۰۱۰۳۹۳