تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 116 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 116

تاریخ افکار را سلامی IM آپ کے ایک شریک تجارت حفص نامی بڑے صاحب علم بزرگ تھے وہ تمہیں سال تک آپ کے ساتھ کاروبار میں شریک رہے۔ایک بار انہوں نے کہا: میں بڑے بڑے علماء، فقہاء، قضاة، زهاد اور تجار کے ساتھ رہا ہوں میں نے امام ابو حنیفہ جیسا جامع الصفات بزرگ کوئی نہیں دیکھا۔وہ ان ساری صفات اور قابلیتوں کے جامع تھے جو دوسروں میں فروافر دا پائی جاتی تھیں لیے امام ابوحنیفہ اور حکومت آپ نے بنوامیہ اور بنو عباس دونوں حکومتوں کے دور دیکھے۔قریب با ون سال بنو اُمیہ کے دور حکومت میں گزرے اور اٹھارہ سال بنو عباس کا دور دیکھا۔بنوامیہ کے عروج کا زمانہ اور پھر زوال کے سارے مراحل آپ کی آنکھوں کے سامنے گزرے۔آپ دونوں حکومتوں کے انداز کو پسند نہیں کرتے تھے اور علوِيُّ الهَوای تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ سادات کے نیک لوگ بر سر اقتدار آئیں لیکن اس کے باوجود آپ نے کبھی بغاوت اور خروج علی الحکام میں حصہ نہیں لیا۔آپ کا نظریہ یہ تھا کہ قائم شدہ حکومت کے ساتھ اس کے اچھے کاموں میں تعاون کرنا چاہیے۔نصیحت اور خیر خواہی کے اصول کو آپ نے ہمیشہ مد نظر رکھا۔آپ کا کہنا تھا کہ بغاوت فتنہ کا ایک انداز ہے۔اس میں خون ریزی کے جوطوفان اٹھتے ہیں وہ حکام کے انفرادی ظلم و جور سے کہیں زیادہ بھیا تک ہوتے ہیں اس لیے بغاوت کوئی طریق اصلاح نہیں۔بنو اُمیہ کی حکومت نے بھی کوشش کی کہ وہ آپ کا قریبی تعاون حاصل کرے اور حکومت کے کاموں میں آپ شریک ہوں لیکن آپ نے کبھی کوئی عہدہ قبول نہ کیا۔پھر بنو عباس کے دور میں بھی یہ کوشش ہوئی اور آپ پر زور دیا گیا کہ آپ قاضی کا عہدہ قبول کریں لیکن آپ اس پر راضی نہ ہوئے۔حکومت ائمہ دین کا تعاون اس غرض سے حاصل کرنے کی متمنی رہتی تھی کہ عام پبلک ائمہ دین کا نمونہ دیکھ کر اطاعت شعار بن جائے لیکن حکومت کی عام پالیسی ایسی نہ تھی کہ ائمہ دین حکومت میں شرکت کی طرز کا تعاون دیتے اور حکومت کا حصہ بنتے کیونکہ یہ بات حکومت کے ظلم و ستم ابو حنيفه صفحه ۴۰ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں محاضرات صفحه ۱۵۰، ۱۵۱ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ و ابو حنيفه صفحه ۵۶، ۹۸ تا ۱۰۱ و مالک بن انس صفحه ۱۱۷