تاریخ افکار اسلامی — Page 109
تاریخ افکا را سلامی استصحاب 1+9 استنباط احکام کا ایک اصول اصحاب ہے۔اصحاب کے معنے ساتھ رکھنے، قائم رہنے دینے اور اصلی حالت پر موجودرہنے دینے کے ہیں۔شریعت کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت اور جواز ہے پس جب تک نص کسی چیز کو حرام قرار نہ دے اور اس سے منع نہ کرے وہ چیز مبارح اور جائز ہوگی اور اس کا یہ وصف قائم و دائم رہے گا اسی استنباط کا نام فقہاء نے اصحاب رکھا ہے مثلا بنیادی طور پر پانی پاک ہے دوسری چیزوں کو پاک کر سکتا ہے اس کا یہ وصف قائم و دائم اور موجود رہے گا سوائے اس کے کہ نص یہ کہے کہ اب یہ پانی ناپاک ہے۔حدیث میں ہے اگر نجاست پانی کے مزہ یا بو یا رنگ کو بدل دے تو پانی ناپاک اور نجس ہو جاتا ہے ورنہ پاک رہتا ہے۔ایک شخص گم ہو گیا وہ قانونی اغراض کے لیے اس وقت تک زندہ سمجھا جائے گا جب تک کہ دلائل اور واضح قرائن اس کے فوت ہو جانے کے سامنے نہ آجائیں۔ایک شخص ایک جائیداد کا مالک اور اُس پر قابض چلا آرہا ہے اور اردگرد کے رہنے والے سبھی یہ بات جانتے ہیں پس اس کی ملکیت اس وقت تک مسلم ہوگی اور اس کا قبضہ مالکا نہ ہو گا جب تک کہ کوئی قطعی دلیل مثلاً فروخت کا قطعی ثبوت مہیا نہ ہو جائے ہے اہل ظاہر مثلاً امام داؤد ظاہری اور امام ابن حزم الاندلسی اصحاب کے اصول کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔وہ نصوص کی پیروی کی تلقین کرتے ہیں اور اگر کسی مسئلہ کے بارہ میں کوئی نص نہ ملے تو اباحت اصلیه یا استصحاب کے اصول کی پابندی کرتے ہیں اور اس بارہ میں اس قدر متشدد ہیں کہ بعض شد وزا اور بعید از عقل جزیات کو اپنانے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتے۔الاستصحاب استدامة اثبات ما كان ثابتا ونفى ما كان نفيا۔۔۔۔۔۔بقاء الحكم على ما هو عليه حتى يقوم دليل على التغير۔۔۔۔واجمع الائمة على الاخذ به قلة وكثرة وقال الله تعالى " تَخَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقرة : ٣٠) وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينِ (البقرة :۳۷) الامام احمد صفحه ۲۲۶ ۲۲۷