تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 108 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 108

تاریخ افکار را سلامی I+A رَفَع حَرَج استنباط احکام کا ایک اصل رفع حرج" ہے یعنی جس چیز سے لوگ نکلی تھی اور بے چینی سے دو چار ہوتے ہوں اور مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہو اس چیز کا ازالہ اور ا سے ہٹانا مقصو د شریعت ہے۔حرج اور بوجھ مطلوب شرع نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ في الدَيْنِ مِن حَرج - مَا يُرِيدُ اللهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَج يرى طرح ی اسی فرما ا يُريدُ اللهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا - آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے بُعثتُ بِالحَبيفِيَّةِ السَّمْعَةِ عُلُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ۔میں سیدھی سادی اور بالکل آسان شریعت لے کر مبعوث ہوا ہوں۔طاقت اور برداشت کے مطابق راہ عمل اختیار کرو۔کے رفع حرج کے اصول میں اس بات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے کہ دومشکلوں میں سے کون سی کم مشکل ہے۔کس میں کم نقصان ہے۔جو کم مشکل ہے جس میں کم نقصان ہے اسے اختیار کیا جائے۔رفع حرج کی متعدد مثالیں نظام فقہ میں موجود ہیں جن میں سے بعض منصوص ہیں اور بعض غیر منصوص۔جیسے تیم، سفر میں افطار، جرابوں پر مسح۔جمع نماز اور بعض ایسی بیوع جن کے منع ہونے کے بارہ میں نص موجود ہے مثلاً۔بیع غرر بيع شمار قبل از بد و صلاح وغیرہ اور بعض غیر منصوص اور فقہاء کے اجتہاد پر مبنی ہیں، جیسے حسب ضرورت عورت کا فوٹو کھنچوانا۔مرد ڈاکٹر سے علاج کروانا۔زندگی بچانے کے لیے دوسرے کا خون دینا۔اعضاء کی پیوند کاری کا جواز وغیرہ رفع حرج کے اصول سے ہی وابستہ ہیں اور حقیقت شناس علماء اور گہری نظر رکھنے والے فقہاء اس اصل کی وسعت کے قائل ہیں۔ے ل سورة الحج : ۷۹ سورة المائدہ : ۷ ک سورة النساء : ٢٩ کے مالک بن انس صفحه ۲۰۰ ۲۰۱ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ۱۰۴ تا۱۰۶ مالک بن انس صفحه ۲۰۱۰۳۰۰ و ۲۱۵ و ۲۳۱