تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 110 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 110

شرعی اور فقہی نظام کی تدوین کے لحاظ سے اہل السنت والجماعت کی شاخیں جن ائمہ فقہ نے تدوین فقہ کی بنیا د رکھی اور اس سلسلہ میں قابل قدر کام کیا اور ان کے ماننے والے دنیائے اسلام میں بالعموم پائے جاتے ہیں اور جن کی مختصر سوانح کا لکھنا اس جگہ مقصود ہے وہ مند رجہ ذیل ہیں۔حضرت امام ابوحنیفہ حضرت امام مالک۔حضرت امام شافعی۔حضرت امام احمد بن حنبل۔حضرت امام ابن تیمیہ - حضرت امام ابن قیم - حضرت امام داؤ دا لظاہری۔حضرت امام ابن حزم۔حضرت امام لیث بن سعد - حضرت امام جریر الطبر گئی۔رجحان طبع اور تفاوت حالات کی وجہ سے مذکورہ بالا ائمہ نے تدوین فقہ کے لیے مختلف نج اختیار کئے۔بعض روایات میں ماہر تھے اور فقہ کی بنیا دروایات پر رکھنے کے قائل تھے وہ ضعیف سے ضعیف روایت کو بھی رائے اور قیاس پر ترجیح دیتے تھے اور بعض دوسرے فراست اور تفقہ سے کام لینے کے عادی تھے اور گہرائی میں جانے کا ذوق رکھتے تھے اور قرآن کریم کے بعد انہیں روایات کو قبول کرتے تھے جو ان کے نزدیک یقینی اور قطعی الثبوت تھیں ورنہ وہ رائے قیاس اور علم کے دوسرے ذرائع کی مدد سے مسائل فقہ مستنبط کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ علم کثرت روایت کا نام نہیں علم تو ایک نور ہے ایک بصیرت ہے۔استنباط مسائل میں اس سے کام لینا چاہیے اور اس کی مدد سے کسی روایت کا صحیح رخ متعین کرنا چاہیے۔ان کے خیال میں یہ ضروری تھا کہ مقاصد شریعت کو مد نظر رکھ کر تفقہ کافریضہ سرانجام دیا جائے لے ↓ الف۔ليس العلم بكثرت الرواية انما هو نور يضعه الله في القلب (مالک بن انس صفحه ۱۰۵) ب۔سئل عبدالرحمن بن المهدى عن سفيان الثورى والاوزاعى و مالک (بقیہ اگلے مغویر)