تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 97
96 اور صدر انجمن احمدیہ سے جو اس زمین کے خریدار تھے یہ خواہش کی تھی کہ وہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے لیے بھی ایک ایک ٹکڑا وقف کریں، چنانچہ بارہ بارہ اکتال دونوں کے لیے وقت کی گئی۔بارہ کنال زمین کے یہ معنی ہیں کہ ۶۵ ہزار مربع فٹ کا رقبہ ان کے پاس ہے اگر اسے صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ بہت بڑے کام آ سکتا ہے ، مثلاً اس کے ارد گرد چار دیواری بنالی جائے تو آئندہ سالانہ اجتماع بجائے اس کے گر کسی اور میدان میں کیا جائے بڑی عمدگی کے ساتھ اس جگہ ہو سکتا ہے۔4 ہزار مربع فٹ میں سے اگر عمارتوں اور سٹرکوں کو نکال لیا جائے مثلاً عمارتوں اور سڑکوں کے لیے ۲۵ ہزار مربع فٹ زمین نکال لی جائے تو انہیں ہزار مربع فٹ زمین باقی بچتی ہے اور دس دس فٹ زمین ایک آدمی کے لیے رکھ دی جائے ، بلکہ پندرہ پندرہ نٹ زمین بھی ایک آدمی کے لیے رکھ دی جائے تو چالیس ہزارنٹ کی زمین میں اڑھائی تین ہزار آدمی سو سکتا ہے اور اتنے نمائندے ہی اجتماع میں ہوتے ہیں ، پھر اگر زیادہ نمائندے آجائیں تو سڑکوں وغیرہ کے لیے زمین کو محدود کیا جاسکتا ہے۔پھر پاس ہی انصارالله کا دفتر ہوگا۔اگر دونوں مجالس کے سالانہ اجتماع ایک ہی وقت میں نہ ہوں تو ۲۴ کنال زمین استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔انہیں ضرورت ہو تو تم اپنی جگہ انہیں دے دو اور تمہیں ضرورت تم دو اور ہو تو وہ اپنی جگہ تمہیں دے دیں۔اس طرح مقامی جگہ کی عظمت قائم ہو سکتی ہے پس میرے نزدیک آپ لوگوں کو کوشش کرنی چاہئیے کہ کسی نہ کسی قسم کی چاند دیواری اس زمین کے اردگرد ہو جائے خواہ وہ چار دیواری کٹڑیوں کی ہی کیوں نہ ہو۔بارہ کناں کی چار دیوار کی پر اڑھائی تین ہزار روپیہ خرچ آئے گا، بلکہ اس سے بھی کم اخراجات میں چار دیواری جائے گی۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کے لیے دکھا کروں گا خدا تعالی تمہیں جلد مرکز بنانے کی توفیق دے دی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ انصار اللہ نے ابھی مرکز بنانے کی کوشش نہیں کی۔بہنا دنیا میں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ بوڑھے تجربہ کار ہوتے ہیں، لیکن ہماری جماعت یہ سمجھتی ہے کہ پڑھے بیکار ہوتے ہیں اور بے کار کا کوئی کام نہیں۔اس لیے انصار الله یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کام نہیں کرتے تو وہ اپنے عہدے کے مطابق کام کرتے ہیں۔قادیان میں بھی انصار اللہ ہے 1