تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 96
نواں باب تعمیر فقر انصار الله مجلس انصار اللہ کے لیے ستقل عمارت کی ضرورت تو قیام مجلس کے آغاز سے ہی محسوس ہونے لگی تھی لیکن تقسیم ملک سے قبل کی طرف پوری توجہ نہیں کی جاسکی کیونکہ اول تو تنظیم اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی تھی۔اس کا لا کر عمل اور طریقی کار پوری طرح متعین نہیں ہوا تھا۔دوسرے ذرائع آمد بڑے محدو دیکھے۔چندہ کی ہو شرح اس وقت مقرر تھی اس سے تو روزمرہ کے کام ہی مشکل مل سکتے تھے۔کسی بڑی تعمیر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اس لیے خیال میں تھا کہ دفتر کی تعمیر ملایا کے ذریعہ ہی ہو سکے گی ، اس کے لیے اصولی طور پر اجازت ۱۳۳۰ یش بھی حاصل کرلی گئی، لیکن وصولی کے لیے کوئی معین طرق طے نہیں ہوا تھا۔ماہ فتح رو سمیر میں میں عاملہ مرکزہ یہ کے ایک اجلاس میں قائد مال کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ تعمیر دفتر کے لیے بیس ہزار روپیہ کی ضرورت ہوگی۔اگر اس کے لیے ایک ماہ کی آمد پر پانچ فیصد شرح سے چندہ مقرر کر دیا جائے تو یہ تم مجمع ہو سکتی ہے، لیکن اس وقت یہ معاملہ تجاویز تک ہی رہا اور کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔خدام وانصار کو اپنا اپنا مرکز بنانے کی ہدایت : حضرت امیرالمومنین خلیفتہ اسیح الثانی ہند نے یہ دیکھتے ہوئے کہ مجلس انصار اللہ کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھارہی مورخه در شہادت۔اپریل میشی کو خدام الاحمدیہ کے متعلق دفاتر کی عمارت کے افتتاح کے موقعہ پر / ۱۳۳۱ ارشاد فرمایا : که Figor " جس وقت یہ زمین (یعنی ربوہ کی زمین ، ناقل) خرید کی گئی تھی اس وقت میں نے تحریک جدید له الفضل، فضل عمر نمبر مارچ 1944