تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 64 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 64

پانچواں باب عظیم انفصال اللہ کے اغراض و مقاصد حضرت امیرالمومنین نے جہاں چالیس سال سے اوپر گر رکھنے والوں کی الگ تنظیم قائم کرنے کا ایش در فرمایا وہاں ان کے لیے لائحہ عمل بھی خود تجویز فرما دیا تا کہ صحیح خطوط پر اور بلا توقف کام شروع کیا جا سکے جو متقاعد اس تنظیم کے قیام سے حضور کے پیش نظر تھے ان کا ذکر بڑی تفصیل سے حضور نے اپنے بعض خطبات اور تقاریر میں فرمایا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ضروری اقتباسات اس جگہ درج کر دیئے جائیں تا کہ حضور کے اپنے الفاظ میں ان کی وضاحت ہو۔ذیلی تنظیموں کے قیام کے کچھ اہم اعراض کا ذکر کرتے انصار اللہ کے قیام کی چھ اعراض ہوئے حضورنے فرمایا: اسے " میں نے چالیس سال سے کم عمروالوں کے لیے خدام الاحمدیہ اور زیادہ عمر والوں کے لیے مجلس اقتصاد اللہ قائم کی ہے یا پھر عورتیں ہیں ان کے لیے لجنہ اماءاللہ قائم کی ہے۔میری غرض ان تحریکات سے یہ ہے کہ جو قوم بھی اصلاح وارشاد کے کام میں پڑتی ہے اس کے اندر ایک ہوش پیدا ہو جاتا ہے کہ اور لوگ ان کے ساتھ شامل ہوں اور یہ خواہش کہ اور لوگ جماعت میں شامل ہو جائیں جہاں جماعت کو عزت بخشتی ہے وہاں بعض اوقات تماعت میں ایسا ختنہ پیدا کرنے کا موجب بھی ہو جایا کر تی ہے جو تباہی کا باعث ہوتا ہے، جماعت اگر کروڑ دو کروڑ بھی ہو جائے اور اس میں دس لاکھ منافق ہوں تو بھی اس میں اتنی طاقت نہیں ہو سکتی جتنی اگر دس ہزار مخلص ہوں تو ہو سکتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ چند صحا بنا نے جو کام کئے وہ آج چالیں کروڑ مسلمان بھی نہیں کر سکتے ہیں جماعت میں نئے لوگوں کے شامل ہونے کا اسی صورت میں فائدہ ہو سکتا ہے کہ شامل ہونے والوں کے اندر ایمان اور اخلاص ہو۔صرف تعداد میں اضاف تقریر مورد ، ۲ م فتح دسمبر ۱۳۲ پیش مطبوعه الفضل ۲۶ را خاء مرا کتوبر پیش ۱۳۳۹ ۲۰ *149*