تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 239 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 239

۲۳۸ قرآن کریم کا درس دیا اور ذکر حبیب کا پروگرام ہوا۔چوتھا اجلاس ناشتہ کے بعد شروع ہوا۔حدیث کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درس کے بعد حضرت صاحبزادی مرزا بشیر احمد صاحب نے جماعتی تربیت کے اصول کے موضوع پر ایک قیمتی مقابلہ پڑھا اور انصار اللہ کو زرین ہدایات سے نوازا۔اس کے بعد تقریری مقابلہ ہوا اور پھر سوال و جواب کا دلچسپ اور نہایت مفید پروگرام شروع ہوا۔نائب صدر محرم کے علاوہ مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابوالعطاء صاحب نے سوالات کے جواب دیئے۔اجتماع کا پنجم اور آخری اجلاس دوپہر کے کھانے اور نماز ظہر و عصر کے بعد دو بجے شروع ہوا اور شور علی کی بقیہ کا روائی عمل میں آئی۔اس کے بعد قائدین نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق مختصر رپورٹ پیش کی، بعض عماد جاس بیرون نے بھی مختصر طور پر خطاب کیا۔سوا تین بجے حضرت امیرالمومنین اجتماع میں تشریف لائے حضور نے مجلس کے لیے ایک نیا عہد نامہ تجویز کیا تھا وہ کہلوایا اور اختتامی تقریر شروع فرمائی، حضور کی تقریر کے بعض اقتباسات درج ذیل ہیں۔حضور نے فرمایا :- " میں نے کل اپنی تقریر میں کہا تھا کہ آپ کا نام انصار اللہ ہے یعنی صرف آپ انصار میں بلکہ آپ انصارالہ ہیں، یعنی اللہ تعالٰی کے مدد گا ر اللہ تعالیٰ کو تو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ، لیکن اس کی نسبت کی وضاحت سے یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ہمیشہ اس عہد پر قائم رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اس پر موت نہیں آتی۔اس لیے آپ کے محمد پر بھی کبھی موت نہیں آنی چاہیئے۔چونکہ موت سے کوئی انسان نیکے نہیں سکتا اس لیے انصار اللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ جب تک آپ زندہ رہیں گے اس عہد پر قائم رہیں کے اور اگر آپ مر گئے تو آپ کی اولاد اس عہد کو قائم رکھے گی یہی وجہ ہے کہ اس عہد میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گائے اور اگر اللہ تعالٰی ہماری نسلوں کو اس بات کی توفیق دیدے تو پھر کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہمیں یہ توفیق مل جائے کہ ہم عیسائیوں سے بھی زیادہ عرصہ تک خلافت کو قائم رکھ سکیں ، خلافت کو قائم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ تنظیم سلسلہ ایسی مضبوط رہے کہ تبلیغ احمدیت اور تبلیغ اسلام دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہوتی رہے جو بغیر خلافت کے نہیں ہو سکتی۔۔۔یہ کام تبھی ہو سکتا ہے جب ایک تنظیم ہو اور کوئی ایسا شخص جو جس کے ہاتھ پر ساری جماعت جمع ہو اور وہ ان آن ، در دو آنے ،