تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 240
چار چار آنے اردو پہیہ دو روپے جماعت کے ہر فرد سے وصول کرتا رہے اور اس دو دو آنے چار چار آنے سے اتنی رقم تجمع ہو جائے کہ ساری دنیا میں تبلیغ ہو سکے ، دیکھیو عیسائیوں کی تعداد ہم سے زیادہ ہے وہ اس وقت ساٹھ کروڑ کے قریب ہیں، پوپ جو عیسائی خلیفہ ہے اس نے اس وقت یہ انتظام کیا ہوا ہے کہ ہر عیسائی سال میں ایک ایک آنہ چندہ دیتا ہے اور اس کو عیسائی پوپ کا آنہ (POP E'S PENNY) کہتے ہیں اور اس طرح وہ پونے چار کروڑ روپیہ جمع کر لیتے ہیں، لیکن آپ لوگ باوجود اس کے کہ اتنا بوجھ اٹھاتے ہیں کہ کوئی اپنی ماہوار آمدنی کا چھ فیصد چندہ دیتا ہے اور کوئی دس فیصد چندہ دیتا ہے اور پھر بارہ ماہ متواز دیتا ہے آپ کا چندہ پندرہ میں لاکھ بنتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری تعداد عیسائیوں سے بہت کم ہے۔اگر ہمارے پاس پونے چار کروڑ روپیہ ہو جائے تو شاید ہم دو سال میں عیسائیت کی دھجیاں بکھیر دیں اس تھوڑے سے چندے سے بھی ہم وہ کام کرتے ہیں کہ دنیا دنگ رہ گئی ہے چنا نچہ عیسائیوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ جہاں بھی ہم جانتے ہی احمدیت کی تعلیم کی وجہ سے لوگ ہماری طرف توجہ نہیں کرتے اور نہ صرف نئے لوگ عیسائیت میں داخل نہیں ہوتے بلکہ ہم سے نکل نکل کر لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔۔۔۔تو یہ جو کچھ ہورہا ہے محض نظام کی برکت کی وجہ سے ہو رہا ہے اور اس نظام کا ہی دوسرا نام خلافت ہے، خلافت کوئی علیحدہ چیز نہیں بلکہ خلافت نام ہے نظام کا ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب الوصیت میں فرماتے ہیں تمہارے لیے دوسری قدرت کا دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے۔اب دیکھو ! قدرت ثانیہ کسی المین کا نام نہیں۔قدرت ثانیہ خلافت اور نظام کا نام ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تو کچھ مدت تک تمہارے اندر رہ سکتا ہوں گر به قدرت ثمانید وائی ہوگی اور اس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور قیامت تک نہ کوئی نبی رہ سکتا ہے اور نہ خلیفہ، ہاں خلافت قیامت تک رہ سکتی ہے۔نظام قیامت تک رہ سکتا ہے۔۔۔۔۔اگر جماعت ایک خلیفہ کے بعد دوسرا خلیفہ مانتی چلی جائے تو ایک عیسائیت کیا ہزاروں عیسائیتیں بھی احمدیوں کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ ہمارے پاس دلائل و براہین کا وہ ذخیرہ ہے جو کسی اور قوم کے پاس نہیں۔۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سپرد یہ کام کیا ہے کہ آپ اسلام کو ساری دنیا پر ناب