تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 22 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 22

تو اب کیوں قابل اعتراض ہو گیا۔دوسرا اعتراض یہ کیا گیا کہ انجمن کا نام انصار اللہ کیوں رکھا گیا کیا دوسرے احمدی انصار اللہ نہیں ہیں تو آپ نے جواب دیا کہ جب لوگ اپنی اولاد کے نام محمد اور احمد اور موسیٰی و سیٹی رکھتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو نعوذ باللہ ابوجبل یا فرعون سمجھتے ہیں ، اگر یہ نہیں تو ہمارے انصار الله نام رکھنے سے سیکسی طرح سمجھ لیا گیا کہ ہم دوسروں کو انصار اللہ نہیں سمجھتے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے رہنے والوں کو انصار کا خطاب دیا تو کیا مدینہ سے باہر رہنے والے سب لوگ نعوذ باللہ عدو اللہ تھے۔قسیرا اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ انجمن خواجہ کمال الدین صاحب کے بالمقابل کھڑی کی گئی ہے اور دلیل یہ دی کہ وہ جب تبلیغ اسلام کر رہے ہیں تو پھر ایک انجین کے بنانے کی کیا ضرورت تھی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معترضین کے نزدیک تبلیغ ایک فرض کفایہ ہے جو ایک شخص کے کرنے سے سب کے سر پر سے اُٹھ جاتا ہے حالا نکہ خواجہ صاحب جماعت میں پہلے شخص تو نہیں تھے جنہوں نے تبلیغ شروع کی ہو ، اگر ان سے پہلے بھی احمدی تبلیغ کرتے تھے تو اس قاعدہ کے مطابق خواجہ صاحب کو بھی نہیں کرنی چاہیے تھی، تبلیغ ہر ایک کا فرض ہے اس لیے جو تنظیم اس غرض کے لیے قائم کی جائے اس پر اعتراض کیسے ہو سکتا ہے۔چوتھا اعتراض یہ کیا گیا کہ اس انجمن کے قیام نے جماعت میں تفرقہ پیدا کر دیا ہے اور ایک نیا نام رکھ کر دو جماعتیں بنادی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر نیا نام دینا اور نئی جماعت بنا نا قابل اعتراض ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہوگا کہ اس نے انصار اور مہاجرین کی دو الگ الگ جماعتیں بناکر کیوں تفرقہ پیدا کیا، اگر وہاں تفرقہ نہیں تھا تو میاں کیسے ہو گیا ، پھر صاحبزادہ صاحب نے واضح کیا کہ اس وقت بھی جماعت میں بیسیوں انجمنیں ہیں، کوئی انمین احمدیہ فیروز پور ہے کوئی جماعت لاہور یا پشاور ہے پھر ایک صدر انجمن کہلاتی ہے۔یہ سب انجمنیں اور جماعتیں تفرقہ نہیں، بلکہ ترقی کا موجب ہیں۔ایک اور اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ انہیں ایک خفیہ سوسائٹی ہے جو مرزا محمود احمد صاحب کے حق میں پراپیگنڈا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔یہ اعتراض معجب مضحکہ خیز ہے آگیا خفیہ سوسائیٹیاں مساجد میں اجلاس یہ ا کرتی ہیں اور اپنی کارروائیوں کو اخبارات میں شائع کرتی ہیں۔پراپیگینڈا والی بات کھل کہ اس وقت کی گئی جب خلافت ثانیہ کا انتخاب ہوا۔اس بارے میں وہ حلفیہ شہادت کافی ہے جو مولوی فرزند علی صاحب ہیڈ کلرک قلعه میگزین فیروز پور نے دی اور افضل 4 اپریل 19ء میں شائع ہوئی، اس کا ایک اقتباس