تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 21
مقدمات پر جا کر کچھ دینے چاہئیں تاکہ لوگ دینی باتوں کو توجہ اور دلچسپی سے نہیں تبلیغ کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے اس لیے انصار اللہ کو چاہیے کہ حسب موقع اور فرمت قادیان اگر قرآن و حدیث کا علم سیکھیں اور واپس جاکر دوسریاں کو سکھ میں مختلف مذاہب کی تردید یا اسلام کی حمایت میں جو کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفه آین یا علماء سلسلہ نے تصنیف کی ہیں ان کا مطالعہ کریں ، اس سلسلہ میں آپ نے بعض کتب خاص طور پر تجویز کیں ، جن کا مطالعہ انصار کے لیے لازمی قرار دیا، اپھر ایک تجویز ی بھی پیش کی کہ سلسلہ کی کتب کا سال میں ایک دفعہ امتحان ہوا کریگا، تا کہ احباب کو ضروری مسائل سے واقفیت حاصل ہوئے پھر آپ نے ممبران کو اس طرف بھی متوجہ کیا کہ وہ ایک دوسرے سے کثرت سے ملیں اور ایک دوسرے کی د قوتیں کریں تاکہ باہمی اخوت و محبت کا جذ بہ ترقی کرے اور ان کا باہم سلوک ایسا ہو جیسا سگے بھائیوں کا۔اگر کسی شہر میں جائیں تو وہاں کے انصار کو تلاش کر کے ان کے پاس قیام کریں، ان ملاقاتوں میں صحابہ کی طرح دینی گفتگو کر کے ایمان تازہ کریں اور علمی افادہ ایکدوسرے سے حاصل کر یں۔نجی معاملات میں باہم مشورہ کریں اور دعاؤں کے ذریعہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔جب انجمن انصار اللہ کے قیام سے جماعت میں بیداری بعض اعتراضات اور انکا جواب بند کرنے اور زندگی کی اک نئی روح پھونکنے کی کوشش پیدا کی گئی تو بد قسمتی سے بعض افراد نے اس پر اعتراض کرنے شروع کر دیئے ، حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایک تفصیلی مضمون الفضل نے میں لکھا اور تمام اعتراضات کے شانی جواب دیئے اور واضح کیا کہ وہ سب بے بنیاد ہیں۔صاحبزادہ صاحب نے یہ جواب دیا کہ میں طرح ایک کمانڈر انچیف کے ماتحت کئی کمان افسر ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی اپنی فوج کا ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح انصار اللہ کی جماعت حضرت خلیفہ المسیح کے زیر حکم ایک ایسی فوج ہو گی جو میری ماتحتی میں کام کریگی ، پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت خلیفہ المسیح نے مجمع احباب" نام کی ایک انجمن بنائی تھی اگر اس وقت ایک ذیلی تنظیم کا قیام قابل اعتراض نہ تھا لے اس تجویز کے مطابق پہلا امتحان اکتوبر میں لیے جانے کا اعلان کیا گیا اور اس کے لیے یہ نصاب مقر کیا گیا را ترجمہ و تفسیر سورة بقره (۲) ازالہ اوہام ہر دو حصه (۳) چشمه معرفت (الفضل اار ضروری سواء ) ه اخبار الفضل ۲۳ جولائی ۱۹۱۳ء