تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 215
فتنہ سے ڈرایا ہو۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اتنے بوٹے فتنہ کے ہوتے ہوئے ہماری جماعت کسی طرح آرام کی نیند سوسکتی ہے اور کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں وہ اپنے قیمتی وقت کو ضائع کر سکتی ہے۔جب کسی کے گھر میں آگ لگ جاتی ہے تو لوگ بیٹھ کر گئیں ہانکنے نہیں لگ جاتے بلکہ پا گلا نہ طور پر ادھرادھر دوڑنے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں اگر ہمیں احساس ہماری جماعت کے اندر بھی موجود ہو تو کفرو شرک کی آگ جو اس وقت دنیا کو جل کر خاکستر کر رہی ہے اسکو کھانے کے لیے آپ لوگوں کے اندر کیوں بیتابی پیدا نہ ہو ہیں میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ وقت کی نزاکت کو سمجھو اور اس جہاد کی طرف آؤ جس سے بڑا جہاد اس زمانہ میں اور کوئی نہیں، آج ایک بہت بڑی روحانی جنگ دنیا میں لڑی جارہی ہے اور اسلام کے مقابلہ میں ایک بڑا بھاری فتنہ سر اٹھائے ہوتے ہے، ہماری راتوں کی نیند بھی اس فکر میں اُڑ جانی چاہیئے اور ہمیں اپنے تمام پروگرام اس نقطہ کے ارد گرد مرکوز کرنے چاہئیں۔بیشک تنہ کیۂ نفس بھی ایک بڑی ضروری چیز ہے اور دعاؤں اور ذکر الہی سے کام لینا بھی ہر مومن کا فرض ہے مگر تبلیغ اسلام ایک نہایت وسیع اور عالمگیر نیکی ہے جس میں حصہ لینے والا تزکیہ نفس اور دعاؤں اور ذکر الہی کی دولت سے بھی محروم نہیں رہے گا۔پس دجالی فتنہ کے مقابلہ کے لیے اجتماعی کوشش کرو۔اپنے اعمال کی ہمیشہ قربانی کرتے رہو اور اپنے اوقات کو اس مرض کے لیے وقف کرو تا کہ اسلام دنیا میں غالب آئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت دنیا کے کونے کونے میں قائم ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے خیرو برکت کا موجب بنائے اور آپ کو اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے اور وقت کے تقاضوں کو صحیح رنگ میں شناخت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ لوگوں میں ایسا جذب روحانی اور اخلاص پیدا کرے کہ آپ لاکھوں لاکھ لوگوں کو احمدیت میں داخل کرنے کا موجب بن جائیں تاکہ قیامت کے دن ہم شرمندہ نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں اور خطاؤں کو معاف فرماتے ہوئے اپنی رحمت کی چادر میں ہمیں چھپائے اور اپنے دین کے پیچھے اور جان نثار خادموں میں شامل کرے۔اسے خدا تو ایسا ہی کریہ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد