تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 214
فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کرے اسی طرح انصار اللہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی جماعت کے بچوں اور نوجوانوں کے حالات اور ان کے اخلاق کا جائزہ لیتے رہیں اور اگر خدانخواستہ ان میں کوئی کمزوری دیکھیں تو نرمی اور محبت کے ساتھ اس کو دور کرنے کی کوشش کریں اور اپنی ظاہری جدوجہد کے ساتھ ساتھ دعاؤں سے بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کو جذب کریں اور سب سے بڑھ کر اپنا نیک نمونہ ان کے سامنے پیش کریں تا کہ ان کی فطرت کا مخفی نور چمک اُٹھے اور دین کے لیے قربانی اور فدائیت کا جذبہ ان میں ترقی کرے۔اگر جماعت کے یہ تینوں طبقات اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے لگ جائیں تواللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری قومی زندگی ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے ، افراد بے شک زندہ نہیں رہ سکتے لیکن قوم اگر اپنے آپ کو روحانی موت سے محفوظ رکھنا چاہے تو وہ محفوظ ر کھتی ہے بس کوشش کرو کہ خدا میں دائمی روحانی حیات بخشے کوشش کرو کہ تم اپنے پیچھے نیک اور پاک نہیں چھوڑ کر جاؤ تا کہ جب تمہاری موت کا وقت آئے تو تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کی حمد کر رہی ہو۔تمہیں یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہر زمانہ میں حالات کے بدلنے کے ساتھ خدمت دین کے تقاضے بھی بدل جایا کرتے ہیں۔اس زمانہ میں عیسائیت کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ ہے جس کے استیصال کے لیے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علی اسلام کو بھیجی اور کسر صلیب کا کام آپ کے سپرد فرمایا۔میں اس زمانہ میں سب سے بڑی نیکی خدائے واحد کے نام کی بلندی اور کفر و شرک کی بیٹیکسٹی کرتا ہے جس کے لیے جماعت کو مال اور جانی ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔میں نے اس امر کو دیکھتے ہوئے ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے دوستوں سے کہا تھا کہ پاکستان میں عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہرشخص کو سال میں کم از کم ایک ہفتہ وقف کرنا چاہیئے۔مجھے معلوم نہیں کہ تباعت نے عملی رنگ میں اس کا کیک جواب دیا اور صدرا تجمین احمدیہ نے اس کی نگرانی کے لیے کیا کوشش کی ، لیکن اگر ابھی تک ہماری جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہ کی ہو تو میں ایک دفعہ پھر آپ لوگوں کو اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔عیسائیت کا فتنہ کوئی معمول نفقہ نہیں۔رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدم سے لے کر اب تک کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا میں نے اپنی امت کو دجال کے