تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 79
69 چھٹا باب مجلس انصاراللہ کی حیثیت جماعتی نظام میں جماعت میں ذیلی تنظیموں کے قیام سے قدرتاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کا مرکزی جماعت میں کیا مقام ہے اور ان کا باہمی کیا تھلتی ہے۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود نے اپنے خطیہ تبعد فرمودہ الہ گرونا جولائی ۱۳۲۳ پیش میں جو کچھ ارشاد فرمایا وہ اس تعلق کو باحسن الوجوہ ظاہر کرتا ہے حضور فرماتے ہیں:۔١٩٤٥ خدام الاحمدی اور انصار الہ کے قیام کی غرض جماعتی استحکام ہے کچھ دن ہوئے میرے پاس شکا میت پہنچی۔۔۔کہ خدام الاحمدیہ کے چندہ کے لیے جب نوجوان انصار اللہ کے پاس گئے تو انھوں نے نہ صرف چندہ دینے سے انکار کیا بلکہ قسم قسم کے طعنے بھی دیئے، تمہارا ہمارے ساتھ کیا واسطہ ہے تم خدام ہو ہم انصار میں تم مدام ہمارا کیا کام کرتے ہو کہ جس کے بدلے میں ہم تمہیں چندہ دیں۔اگر یہ رپورٹ درست ہے تو جان تک چندہ کا سوال ہے میں خدام سے یہ کہوں گا کہ اس میں برا منانے کی وجہ ہی کیا تھی۔۔۔جبکہ خدام الاحمدیہ کے ممبروں میں سے اسی فیصد نوجوان ایسے ہیں جو ملاز میں رکھتے ہیں یا تجارتی کاروبار میں مصروف میں تو ان کو اپنے کاموں کے لیے دوسروں سے مانگنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔۔۔۔میرے نزدیک نوجوانوں کو اپنا بوجھ خود اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔آخر وجہ کیا ہے کہ انصار کے پاس جائیں اور ان سے اپنے لیے چندہ مانگیں۔۔۔۔۔میرے نزدیک انصار اللہ سے چندہ مانگا کہ له الفضل ۳۰ر و نام جولائی ۳۲۳ میش (مشعل راه ) VAY