تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 80
خدام الاحمدیہ نے غلطی کی۔لیکن اگر وہ گئے ہی تھے تو انصار کا جواب بھی مجھے اس کشمیری کا واقعہ یاد دلاتا ہے جو ہمارے ملک میں ایک مشہور مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔اعدام الاحمدیہ کو د خان سے آنیوائی پر یوں کا نام نہیں بلکہ خدام الاحمدیہ نام ہے ہمارے اپنے بچوں کیا اور خدام الاحمدیہ کے سپرد یہ کام ہے کہ وہ بچوں کو محنت کی عادت ڈالیں اور ان میں قومی روح پیدا کریں، ان کے سپرد یہ کام نہیں گو اخلاقا یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ بحیثیت خدام کے بھی لوکل تخمین کے ساتھ مل کر کام کریں۔ہرا محمدی جو چالیس سال سے اوپر یا چالیس سے نیچے ہے وہ مقامی انجمن کا بھی مہبر ہے۔اس سے کوئی علیحدہ چیز نہیں۔پس خدام الاحمدیہ کے یعنی نہیں کہ وہ جماعت احمدیہ مقامی کے عمیر نہیں ہیں بلکہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے مجموعہ کا نام مقامی انجین ہے۔۔۔اس میں تو سمجھ ہی نہیں سکا کہ اس میں اختلاف کی کونسی بات ہے یا کس بنا پر خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ آپس میں اتحاد نہیں کر سکتے۔۔۔۔پس وہ جنھوں نے کیا کہ ہم انصار کو تم خدام سے کیا فرض ہے، انھیں سوچنا چاہیئے تھا کہ خدام الاحمدیہ کوئی الگ چیز نہیں بلکہ خدام الاحمدیہ ان کے اپنے بیٹوں کا نام ہے میں جب انھوں نے کہا کہ ہمیں خدام الاتی ہے۔سے کیا غرض تو دوسرے الفاظ میں انھوں نے یہ کہا کہ ہمیں اس سے کیا غرض ہے کہ ہمارے بیٹے جیتے ہیں یا مرتے ہیں گھر کیا کوئی بھی معقول انسان ایسی بات کرتا ہے۔خدام الاحمدیہ کی جماعت تو صرف نوجوانوں کی اصلاح کے لیے قائم کی گئی ہے۔ایسی صورت میں وہ کون سے ماں باپ ہیں جو یہ کہ سیکھیں کہ ہم اپنے بیٹوں کی اصلاح ضروری نہیں سمجھتے۔مجھے انصار اللہ کے جوابی پر کشمیری کی مثال یاد آگئی تھیں سے کسی نے کہا میاں کشمیری تم یہاں (دھوپ میں ) کیوں بیٹھے ہو فلاں جگہ سایہ ہے اس کے نیچے بیٹھ جاؤ تو کشمیری صاحب نے سنتے ہی ہاتھ پھیلا دیا اور کہا اگر میں وہاں بیٹھ جاؤں تو تم مجھے کیا دو گے یہ کہنا کہ خدام الاحمدیہ کیا کام کرتے ہیں میرے نزدیک درست نہیں کیونکہ جہانتک میرا تجربہ ہے اس وقت تک انصار نے بہت کام کیا ہے، لیکن خدام نے ان سے زیادہ کام کیا ہے۔گو وہ اپنے کام کے لحاظ سے اس حد تک نہیں پہنچے میں مزنگ میں انہیں پہنچانا چاہتا ہوں مگر بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انصار اللہ نے خدام الاحمدیہ کی تنظیم اور ان کے کام کے مقابلہ میں دس فیصدا