تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 112 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 112

7901 قادیان سے باہر کی جملہ مجالس جو چندہ جمع کریں اس کا ۲۵ فیصد مرکز میں ارسال کریں اور بقیہ رقم مقامی ضروریا پر صرت کریں۔11 میں میں یہ قاعدہ بدل دیا گیا اور مجلس عاملہ مرکزیہ نے فیصلہ کیا کہ آئند و چند محلہ نصف دیا پائی ٹی روپیہ ہو۔اس شریح پوشہ حصہ مقامی مجلس انصارہ کو رسوائے ربوہ کے مقامی ضروریات کے لیے رکھتے کی اجازت ہوگی۔چنانچہ اس کے مطابق عمل ہوتا رہا، مرکز کو 46 فیصد اور مقامی مجلس کو ۳۳ فیصد حصہ ملتا رہا۔جیب منلعوار نظام قائم ہو گیا تو ۱۳۳۶ عیش میں مجلس منٹگمری رساہیوال نے یہ تجویز کیا کہ نظامت ضلع کے کاموں کو احسن طور پر چلانے اور مجالس کی مکمل نگرانی کے لیے ناظم ضلع کو کچھ رقم تفولین کی جانی چاہیئے اس لیے ضلع کی ہر ملکی سالانہ بجٹ کے اپنے حصہ میں سے یا منہ ناظم ضلع کو ادا کرے۔شوری نے اس وقت بالاتفاق اس تجویز کو رد کر دیا۔لیکن بہت جلد یہ محسوس ہونے لگا کہ بغیر فنڈ کے ضلعوار نظام خوش اسلوبی سے کام نہیں کرسکتا۔اس لیے میں سال بعد یعنی ہی ہیں کی شورٹی میں مجلس لائل پور نے یہ تجویز پیش کی چندہ تین مجلس کی تقسیم مندرجہ ذیل طریق پر ہو۔حصنه مرکز ۶۵ فیصد مجلس مقامی ۳۰ فیصد- ضلحوار نظام 6 فیصد - اس طرح ضلع ، علاقہ کے اخراجات کے لیے مناسب فنڈ فراہم ہو جائے گا اور وہ اپنے کام بخیر و خوبی چلا سیکس گئے۔شور مٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اس تجویز کی اس ترمیم کے ساتھ سفارش کی جاتی ہے کہ مجلس مقامی کے ۳۳ شوری فیصد میں دو فیصد نظامت ضلع / علاقہ کو دیا جائے اس طرح مجلس مقامی کا حصہ ۲۸ فیصد ہو جائے گا امر کز کا حصہ بدستور 4 فیصد رہے گا حضرت امیر المومنین نے شوری کی ترمیم کو منظور فرمالیا اور اب اسی کے مطابق سندھ 46 مجلس کی تقسیم عمل میں آتی ہے۔1948 مس بعض مجالس اپنا چندہ وقت پر ادا نہیں کرتیں اور بقایا دار ہو جاتی ہیں جب بقایا بڑھ بقالوں کی ادائیگی جاتا ہے تو وہ بقایا کی معافی کی درخواست کرتی ہیں ، اس سلسلہ میں حاملہ مرکز یہ نے اپنے + اجلاس مورته ۱۵ صلح جنوری ۳۳ پیش میں یہ فیصلہ کیا کہ بقایا دار مجالس اپنا بقایا باقساط دس سال میں ادا کردیں ، اگر کوئی مجلس سال رواں کا بجٹ سو فیصدی ادا کر دے تو اس سال کی قسط بقایا معینی یار کی معافی پر غور ہو سکے گا۔