تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 113 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 113

١١٣ ۱۳۳۶ پیش کے 1906 مجلس کا مالی سال | پست یک شماره و بالی بھی کا مالی سال کی صبح جنوری سے اور فتح ہے۔بعض اوقات کچھ ہنگامی ضروریات پیش آجاتی ہیں اور فوری طور پر اخراجات کرنے پڑتے ریزر و فنڈ ہیں، اس ضرورت کے پیش نظر می نام ایک مستقل ریزرو فنڈ قائم کرنے کی تجویز ہوئی میں اور آئندہ سال کے بجٹ میں مشروط بر آمد تین ہزار روپیہ کی رقم رکھی گئی یہ فنڈ میری بیٹی تک قائم رہا + 1949 اس کے بعد اس کو بند کر دیا گیا ، جو قوم اس فنڈ میں جمع ہوئیں وہ مجلس کے گوشوارہ بجٹ آمد و خرچ میں دکھائی گئی ہیں کارکنان دفتر انصار اللہ مرکزیہ کے لیے پراویڈنٹ فنڈ مجلس عاملہ مرکز یہ نے اپنے اجلاس مورخہ اور ظهور امیش اگست شام میں یہ فیصلہ کیا کہ میم صلح ۱۳۳۶ میں سے دفتر کے کارکنوں کی تنخواہ سے ایک آنہ فی رو پیر پراویڈنٹ فنڈ وضع کیا جائے اور اتنی رقم دفتر کی طرف سے دی جائے ، اس کا حساب دفتر مرکزیہ میں رکھا جائے۔سلسلہ مائیکروبس کی فراہمی اختلف مجالس اپنے اجتماعات اور پروگراموں کے عمل میںاس امرکی خواہشمند ہوتی ہیں کہ مرکزی مجلس کے قائدین بھی ان میں شریک ہوں، اس کے علاوہ مرکز بھی یہ چاہتا ہے کہ بیرونی مجالس سے زیادہ سے زیادہ رابطہ رکھا جائے ، ان ہر دو اغراض کے لیے اس امر کی ضرورت محسوس ہوئی کہ محبس کی اپنی ایک جیپ ہونی چاہیئے تاکہ مختلف مقامات کا دورہ حسب ضرورت کیا جا سکے ، اس سلسلہ میں سب سے پہلے نظامت علیا سندھ بلوچستان کی طرف سے بارش میں تجویز پیش ہوئی کہ مرکزی قیادتوں کے کام کو چلانے کے لیے اور مجالس کے دوروں کے لیے مرکز میں ایک جیپ خریدی جائے اور مخیر ا حباب کو اس کار خیر میں حصہ لینے کی تحریک کی جائے لیکن شوری نے اس تجویز کو منظور نہیں کیا، ۱۳۴۷ امیش میں دوبارہ یہ معاملہ شوری میں پیش ہوا اور بارہ ہزار رو پر خطا یا برائے خرید جیپ کی گنجائش بجٹ میں دیکھی گئی ، لیکن شوری نے اس کی سفارش نہ کی۔تیسری مرتبہ یہی تجویز ناظم صاحب انصارالله ضلع جہلم کی طرحنا ہے یا سیشن میں پیش ہوئی اور اس مرتبہ بھی شوری نے اسے نامنظور کر دیا چوتھی مرتبہ ہے۔مجلس لانپور نے ۱۳۵۰ میش میں اس مسئلہ کو شوری میں پھر اُٹھایا اور تجویز کیا کہ اس کے اخراجات نیز دیگر مالی ضروریات کے پیش نظر چندہ مجلس کی موجودہ شرح نصف پیسہ سے بڑھا کو آئندہ سال سے ایک پیر 1961 ۱۳۴۵