تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 228 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 228

قیام پاکستان کے بعد میں انصارت مرکز کا میل سالانہ اجتماع قیام پاکستان کے بعد مجلس انصاراللہ مرکز یہ کا پہلا سالانہ اجتماع مورد ۱۸ر نبوت / نومبر اهش بروز 1900 جمد منعقد ہوا۔اسی دن مجلس خدام الاحمدیہ کا پندرھواں سالانہ اجتماع ہو رہا تھا، اس لیے حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خدام الاحمدیہ کے مقام اجتماع پر انصار اور خدام دونوں کے اجتماعات کا ایک سہی وقت میں افتتاح فرمایا۔اس موقعہ پر انصار ٹیج کے سامنے دریوں پر بیٹھے تھے اور خدام اپنے اپنے خیموں کے سامنے قطار وار کھڑے تھے۔له حضور نے تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا ہے آج انصار اللہ کی پلی میٹنگ ہے انصار کسی جذ بہ اور قربانی سے کام کرتے ہیں یہ تو آئندہ سال ہی بتائیں گے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت کی دماغی نمائندگی انصار کرتے ہیں اور اس کے دل اور ہاتھوں کی نمائندگی خدام الاحمدیہ کرتے ہیں، جب کسی قوم کے دماغ ، دل اور ہاتھ ٹھیک ہوں تو وہ قوم بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔بس میں پہلے تو انصار اللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے وہ ہیں جو یا صحابی ہیں یا کسی صحابی کے شاگرد ہیں۔اس لیے جماعت میں نمازوں دعاؤں اور تعلق باشد کو قائم رکھنا ان کا کام ہے۔ان کو تہجد، ذکر الٹی اور مساجد کی آبادی میں اور نا حصہ لینا چاہیئے کہ نوجوان ان کو دیکھے خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں، اصل میں تو جوانی کی عمر ہی وہ زمانہ ہے جس میں تمجید دعا اور ذکر الہی کی طاقت بھی ہوتی ہے اور مزہ بھی ہوتا ہے لیکن عام طور پر جوانی کے زمانہ میں موت اور عاقبت کا خیال کم ہوتا ہے اس وجہ سے نوجوان غافل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر نو جوانی میں کسی کو یہ توفیق مل جائے تو وہ بہت ہی مبارک وجود ہوتا ہے پس ایک طرف میں انصار اللہ کو تو یہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نمونہ سے اپنے بچوں ، اپنے ہمسایہ کے بچوں اور اپنے دوستوں کے بچوں کو زندہ کریں اور دوسری طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ آنا اعلیٰ درجہ کا نمونہ قائم کریں کہ نسلاً بعد نسل اسلام کی روح زندہ ہے الفضل 10 فتح / دسمبر ۱۳۳۴ بیش