تاریخ انصاراللہ (جلد 1)

by Other Authors

Page 229 of 325

تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 229

اسلام اپنی ذات میں تو کامل مذہب ہے، لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ شربت کے لیے بھی کسی گلاس کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اسلام کی روح کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کسی گلاس کی ضرورت ہے اور ہمارے خدام الاحمدیہ وہ گلاس میں حسن میں اسلام کی روح کو قائم رکھا جائے گا اور انکے ذریعہ سے دوسروں تک پہنچایا جائے گا۔۔۔۔۔یاد رکھو کہ اشاعت دین کوئی معمولی چیز نہیں ، یہ بعض دفعہ جلدی بھی ہو جاتی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زماز میں ۲۳ سال میں ہو گئی اور پھر مزید اشاعت کوئی پچاس سال میں ہوگی مگر کبھی کبھی سینکڑوں سال بھی لے لیتی ہے۔جیسے حضرت مسیح کے زمانہ میں اس نے ایک سوسال کا عرصہ لیا اور کبھی یہ ہزاروں سال کا عرصہ بھی لے لیتی ہے چنا نچہ دیکھ لو یہودیوں کا دنیوی نفوذ توبہت کم عرصہ میں ہو گیا تھا، لیکن دوسری قوموں کی ہمدردی انہیں دو ہزار سال بعد جا کر حاصل ہوئی۔جب لوگوں کو یہ محسوس ہو جا تا ہے کہ کوئی قوم اپنے آثار اور اپنی تعلیمات کو قائم رکھنے کے لیے ہر وقت تیار ہے اور آئندہ بھی تیا یہ رہے گی تو اس قوم کے دشمن اسکے ہمدرد ہو جاتے ہیں، کیا یہ لطیفہ نہیں کہ عیسائیوں نے ہی یہودیوں کو فلسطین سے باہر نگاہ تھا اور اب عیسائی ہی انہیں فلسطین میں واپس لائے ہیں، دیکھو یہ کیسی عجیب بات ہے۔آج سب سے زیادہ یہودیوں کے خیر خواہ امریکہ اور انگلینڈ میں ہیں اور یہ دونوں ملک عیسائیوں کے گڑھے ہیں فلسطین سے یہودیوں کو نکالا بھی عیسائیوں نے ہی تھا مگر وہی آج ان کے زیادہ ہمدرد ہیں۔گویا ایک لمبی قربانی کے بعد ان کے دل بھی پسیج گئے، پیس ہمیشہ ہی اسلام کی روح کو قائم رکھو۔اس کی تعلیم کو قائم رکھو اور یاد رکھو کہ قومیں نوجوانوں کی دینی زندگی کے ساتھ ہی قائم رہتی ہیں ، اگر آنے والے کمزور ہو جائیں تو وہ گر جاتی ہے اگر کوئی انسان یہ کام نہیں کر سکتا صرف اللہ ہی یہ کام کر سکتا ہے۔انسان کی عمر تو زیادہ سے زیادہ ۶۰-۸۰۰۷۰ سال تک چلی جائے گی ، مگر قوموں کی زندگی کا عرصہ تو سینکڑوں ہزاروں سال تک جاتا ہے دیکھو سیح علی السلام کی قوم بھی دو ہزار سال سے زندہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم تیرہ سو سال سے زندہ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ جب تک دنیا قائم رہے گی یہ بڑھتی چلی جائیگی تم بھی ایک عظیم الشان کام کے لیے کھڑے ہوئے ہو۔پس اس روح کو قائم رکھنا ، اسے زندہ