تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 30
کسی ملک میں ہوں ان سے حقیقی بھائی کی طرح محبت کی جائے۔صی یہ آنحضرت صلعم کی مجلس میں بالکل خاموش رہتے اور بن بلائے کبھی نہ بولتے تھے، اسی طرح ان مجالس میں خاموش رہا جائے جب بھی نظام میں جو بن بلائے نہ بولو منہ ہاتھ پاؤں سے کھیلو نہ کسی اور کے سہارے کھڑے ہوا نہ کسی اور بات کی طرف توجہ کرو۔نما نہ اسلام کے عملی احکام میں سے سب سے اہم ہے، بے نماز آدمی اگر بچہ بظا ہرمسلمان ہے گر عملی طور پر وہ اسلام سے خارج ہے۔وہ نماز جو دوسروں کے کسے سے پڑھی جائے وہ اصل نماز نہیں نمانہ کے ذریعہ خدا سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔نماز میں بندہ خدا سے باتیں کرتا ہے جو سچے دل سے خدا سے باتیں کرنے کی خواہش رکھتا ہو اس سے خدا بھی باتیں کرنے لگتا ہے بڑے لڑکوں میں سے جو وعدہ کرنے کے لیے تیار ہوں یہ وعدہ لینا چاہتا ہوں کہ معمر اور تجمعہ کی درمیانی شب نماز فجر سے نصف گھنٹہ پہلے اُٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کرینگے اور اس پر دوام اختیار کرینگے سوائے ان کے کہ وہ اتنے بیمار ہوں کہ چار پائی سے اُٹھ بھی نہ سکتے ہوں ابو لڑکے ابھی وعدہ نہیں کر سکتے ، وہ مہینہ ڈیڑھ مدینہ تجربہ اورشق کرنے کے بعد نام لکھائیں لیکن اگر ہمیشہ اس پر عمل نہ ہو سکے تو نام دینے سے نہ دینا بہتر ہے۔وعدہ کرنے والوں سے ماہ بماہ دریافت کیا جائے گا۔تہجد پڑھنے سے آہستہ آہستہ وہ چیز حاصل ہوتی ہے جسے روحانیت کہتے ہیں۔فرمایا سچائی کی قیمت آدمی کی قیمت سے زیادہ ہے۔سچا مسلمان جان قربان کردیگا ، لیکن سچائی قربان نہیں کریگا ، احمدیت بھی ایک اعلیٰ درجہ کی سچائی ہے۔سب کام سچائی کی خاطر کرنے چاہئیں ، خدا تعالیٰ سب سچائیوں کا منبع ہے۔جب کوئی کام خدا کی خاطر کیا جائے تو کسی روک کو سامنے نہیں آنے دینا چاہیئے حتی کہ ماں چاہتے بھی نہ روک بن سکیں۔دنیا کے تمام کام خیالات کے نتیجہ میں ہی ہوتے ہیں، پہلے خیال ہوتا ہے پھر عمل۔اسی لیے شریعت نے سب سے زیادہ خیالات کی اصلاح پر ہی زور دیا ہے ، یہ سمجھنا غلط ہے کہ خیالات کی اصلاح معلوم نہیں ہو سکتی کیونکہ انسان کے اندر کا تغیر ظاہر میں بھی تغیر پیدا کرتا ہے۔اعمال یہ بتلا دیتے ہیں کہ باطن کی اصلاح ہوئی ہے یا نہیں۔ایک حد تک انسان خود بھی معلوم کر سکتا ہے کہ اس کی اصلاح ہوئی ہے یا نہیں ، لیکن اس کی اپنی نسبت اس کے ساتھ رہنے والے دوست زیادہ بہتر طور پر اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اصلاح کسی حد تک ہوئی ہے۔اگر وہ کوئی کمزوری دیکھیں توان کا فرض ہے کہ علیحدگی میں اپنے بھائی کو محبت اور پیار سے نصیحت کریں۔