تاریخ انصاراللہ (جلد 1) — Page 31
۳۱ صحت اور تندرستی کے سلسلہ میں فرمایا صحت کا ہونا قومی مفاد کے لیے بھی ضروری ہے۔صحت کی خرابی سے غصہ اور چڑچڑا پن پیدا ہوتا ہے صحت کی درستی اوقات کی پابندی پر بھی منحصر ہے۔نیند اور کھیل کا خیال نہ رکھنے سے صحت خراب ہو جاتی ہے۔طالبعلوں کے لیے کم از کم سات گھنٹے سونا لازمی ہے، پھر ایک وقت میں دو کام نہیں کرنے چاہئیں، مثلا کھانا کھاتے وقت پڑھنا نہیں چاہیئے ، نہ غصہ دکھانا اور فکر کرنا چاہیے ، غذا کے لحاظ سے جسم کو طاقت دینے والی چیز روٹی یا گندم ہے نہ کہ سالن۔اگر کسی کو کوئی چیز نا پسند ہو تو صرف سوکھی روٹی کھائے۔ناپسند چیز کو کھانے سے یہ بہتر ہے کہ اس کو نہ کھایا جائے کیونکہ اس سے چڑ چڑا پن پیدا ہوتا ہے۔جلسہ سالانہ جب قریب آیا تو فرمایا بعض دفعہ طبیعت کے خلاف کام کرنے پڑتے ہیں، بعض کا طاقت سے زیاد ہ ہوتے ہیں بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو تم بے فائدہ سمجھتے ہو۔بعض دفعہ افسر بڑے لہجہ میں پیش آتے ہیں لیکن چونکہ تمھارا حمد ہے کہ ہم مسلسلہ کے کام پوری فرمانبرداری سے کرینگے اس لیے گذشتہ سالوں کی نسبت بہتر کام کرکے دکھلاؤ انصار اللہ کا نمبر بنے سے تم پر دوہری ذمہ داری عائد ہوگئی ہے۔اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرو، السلام علیکم اونچی آواز سے کہنے کو رائج کرو خواہ راستہ میں ملنے والا نا واقف ہی ہو۔یہ خیال نہ کرو کہ وہ جواب دیتا ہے یا نہیں۔اپنا رویہ ایسا بناؤ کہ باہر سے آنے والوں کے دل میں بھی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے بچے تعلیم وتربیت کے لیے قادیان صبیحیں۔اسراف سے ہمیشہ بچو، اسراف کے معنی میں اپنی مملوکہ چیز کو حد مناسب سے زیادہ خرچ کرنا۔یہ حد پر ایک کے لیے الگ الگ ہوتی ہے، ہر ایک کو چاہیے کہ جو شہر چ اسے ملتا ہے اس کے تین حصے کرے (1) جسکو اس نے استعمال کرتا ہے (ہ) میں کو صدقہ دیتا ہے (۲) جس کو جمع کرتا ہے۔جس نے یہ اپنے نفس پر ضرور خرچ کرتا ہے وہ بخیل نہیں ہو سکتا۔جس نے یہ صدقہ دینا ہے وہ قوم کے نزدیک بخیل نہیں ہو سکتا۔میں نے یہ بچانا ہے وہ اسراف سے بچا رہے گا۔انسان آرام اچھی عادتوں سے پاتا ہے نہ کہ کھانے سے جس کو اس طرح خرچ کی عادت ہوگی وہ باقی زندگی میں بھی اچھا ہیگا ، اسراف سے بچنے کے لیے نہ صرف والدین کی آمد کا خیال رکھنا ضروری ہے بلکہ اس امر کا بھی کہ ہر چیز پر اس کے لحاظ سے خرچ ہو، قلم نیسل پر اس کے لحاظ سے اور کپڑوں پر ان کے لحاظ سے۔یہ نہ ہو کہ کھانے میں تو کفایت کی ، لیکن کپڑوں پر اسراف سے کام لیا، طالب علموں کا ایک بنگ بنایا جائے میں میں جمع ہونے والی قوم کی رسید دی جائے اور باقاعدہ حساب رکھا جائے اس رقم سے تجارت کی جا سکتی ہے مثلا"