تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 212
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم ۱۹۲ دوسری کلاس نومبائعین ر بوه نو مبائعین ربوہ کی دوسری تربیتی کلاس مورخه ۲۱ فروری بروز جمعہ کو منعقد ہوئی۔مکرم بشارت احمد صاحب محمود نائب زعیم اعلیٰ ربوہ نے خطاب میں جماعت کا تفصیلی تعارف کروایا اور نو مبائعین کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔مکرم مبارک احمد صاحب ظفر منتظم تربیت نو مبائعین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات پڑھ کر سنائے۔اختتامی خطاب مکرم نصیر احمد صاحب چوہدری قائمقام زعیم اعلیٰ نے فرمایا۔کلاس میں تمہیں نو مبائعین شریک ہوئے۔شہادت مکرم میاں اقبال احمد صاحب ایڈووکیٹ نڈر احمدی ،معروف قانون دان اور خادم سلسلہ، مکرم میاں اقبال احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر ضلع را جن پورمورخه ۲۵ فروری ۲۰۰۳ ء بروز منگل نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے اکسٹھ سال کی عمر میں شہید کر دیئے گئے۔مؤرخہ ۲۵ فروری رات ساڑھے نو بجے آپ اپنے دفتر میں جو آپ کے مکان کے ایک حصہ میں تھا ، بیٹھے کام کر رہے تھے۔اس وقت ان کے پاس ان کے بھائی (جو غیر از جماعت ہیں ) اور بیٹی بھی بیٹھی ہوئی تھی کہ دو پگڑی پوش آدمی دفتر میں آئے۔انہوں نے میاں صاحب کی بیٹی کو کہا کہ تم اندر چلی جاؤ۔ان کے اٹھتے ہی انہوں نے فائرنگ کر دی اور میاں اقبال احمد صاحب موقع پر ہی شہید ہو گئے۔محترم میاں اقبال احمد صاحب تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر کے رہنے والے تھے۔ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔میٹرک کے بعد تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں تعلیم حاصل کی۔۲۳ اپریل ۱۹۶۱ء کو بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔۶ار مارچ ۱۹۷۰ء کو نظام وصیت میں شامل ہوئے۔کئی سال پہلے دفتر وصیت میں اپنے تجہیز و تکفین کے اخراجات کی رقم جمع کروا چکے تھے۔آپ ایم اے اسلامیات اور ایل ایل بی تھے اور را جن پور میں وکالت کے پیشہ سے وابستہ تھے۔آپ ۱۹۷۱ء میں نائب امیر ضلع ڈیرہ غازیخان مقرر ہوئے اور جب۱۹۸۰ء میں راجن پورضلع بنا تو آپ اس کے امیر ضلع مقرر ہوئے اور ۱۹۸۹ء سے ۱۹۹۲ء کے عرصہ کے علاوہ اپنی شہادت تک اس عہدہ پر خدمات بجالاتے رہے۔مجالس شوری میں بھر پور شرکت کرتے اور اپنی آراء پیش کرتے۔حکومتی آرڈینینس کے تحت آپ پر متعدد مقدمات قائم کئے گئے اور آپ کو اسیر راہ مولی رہنے کا بھی شرف حاصل ہوا۔روز نامہ الفضل میں آپ کے مضامین بھی شائع ہوتے رہے۔