تاریخ انصاراللہ (جلد 4) — Page 181
تاریخ انصار اللہ جلد چہارم کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام ( در شین ) 171 کس قدر ظاہر نور اُس مبداء الانوار کا ہے بن رہا ہے سارا عالم آئینہ انصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے گل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمال یار کا اُس بہار حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا ☆ نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائے گا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنیوالی ہے یہ کیا عادت ہے کیوں تیچی گواہی کو چھپاتا ہے تری اک روز اے گستاخ! شامت آنیوالی ہے ترے مکروں سے آے جاہل! مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے کلام حضرت مصلح موعود درحمہ اللہ تعالیٰ ( کلام محمود) نہیں کوئی بھی تو مناسبت ره شیخ و طرز ایاز میں اُسے ایک آہ میں مل گیا نہ ملا جو اس کو نماز میں جو ادب کے حُسن کی بجلیاں ہوں چمک رہی کف ناز میں تو نگاہِ حُسن کو کچھ نہ پھر نظر آئے روئے نیاز میں اس جہان کے آئینہ میں جمالِ یار کی جستجو مجھے سو جہان دکھائی دیتا ہے چشم آئینہ ساز میں تعریف کے قابل ہیں یا رب تیرے دیوانے آباد ہوئے جن سے دنیا کے ہیں ویرانے