تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 969 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 969

۹۶۹ یہود کی نوجوان نسلوں کو تبلیغ کی جائے تو بہت مفید ہو سکتا ہے کیونکہ یہ بہت محنتی لوگ ہوتے ہیں اور جس عقیدہ کو تسلیم کر لیں اس کی خوب پیروی کرتے ہیں۔سوال: ہم بطور احمدی ایک اعلیٰ معیار کے حامل ہیں مگر ہم میں کیوں بعض کمزوریاں بھی در آتی ہیں؟ جواب: یہ درست ہے مگر یہ کمزوریاں آتی اور وقت کے ساتھ چلی جاتی ہیں۔اس لیے وقت کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔کس قدر بلند معیار معاشرہ بھی ہو وہاں بھی یہ PROCESS چلتا ہے۔کمزوریاں آتی ہیں اور جماعت کی جدوجہد کے ذریعہ ختم ہو جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو معاشرہ قائم ہوا وہ انتہائی بلند معیار اور ماڈل معاشرہ تھا مگر اس وقت بھی بعض ایسی کمزوریاں موجود تھیں۔مثلاً منافقت تھی۔حتی کہ قرآن کریم میں ایک پوری سورۃ المنافقون اسکے متعلق نازل ہوئی۔مگر اس نفاق کے خلاف جو جہاد اور جد و جہد تھی وہ اس معاشرہ کے بلند معیار کی آئینہ دار تھی۔پس یہ جد و جہد اور جہاد جو کمزوریوں کے خلاف جاری رہتا ہے یہی ہماری جماعت کے اعلیٰ اور بلند معیار کا ثبوت ہے۔اس مرحلہ پر ایک دوست نے بتایا کہ سعودی عرب کے ایک ڈاکٹر سے گفتگو کے دوران میں نے اسے بتایا کہ ۱۹۷۴ء میں جماعت کے تیسرے امام اور آپ کے ساتھیوں کی قومی اسمبلی پاکستان میں گفتگو ہوئی تھی۔اگر اُسے شائع کر دیا جائے تو لوگ اس سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ جب یہ کارروائی ختم ہوئی تو اس کی اشاعت کے لئے عوام وخواص کی طرف سے بہت مطالبے ہوئے مگر بھٹو صاحب نے اس لئے شائع نہ کی کہ لوگوں پر حقیقت حال آشکار ہو جائے گی۔علاوہ ازیں بھٹو صاحب نے اس سے یہ فائدہ بھی اٹھایا کہ اگر علماء شور کریں گے تو ان کو چپ کرانے کے لئے اس کی اشاعت کی دھمکی کافی ہوگی۔سوال: خاتم النبیین کو مد نظر رکھ کر نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟ جواب: اس بارہ میں کئی دفعہ پہلے بتا چکے ہیں نبی اور رسول میں صرف ڈائریکشن کا فرق ہے۔رسول پیغام لانے والا ، اگر وہ غیر تشریعی ہے تو وہ وہی پیغام لاتا ہے جو پہلے رسول لے کر آئے تھے اور نبی وہ جو خبریں دیتا ہے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے انسانی علم سے ممتاز خبریں لاتا ہے اس لحاظ سے اُسے نبی کہتے ہیں۔قرآن کریم میں ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین کہا گیا ہے۔اب اگر ہر نبی رسول نہیں تو ختم نبوت بہت محدود ہو کر رہ جاتی ہے کیونکہ جو رسول ہیں ان پر خاتم النبیین کی خاتمیت اثر انداز نہ ہو سکے گی۔لیکن نبی اور رسول ایک ہی فرد کے لئے بولے جاتے ہیں مگر دونوں کی صفات علیحدہ علیحدہDIRECTION کے لحاظ سے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ فرمان نبوی عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ سے ظاہر ہے کہ امت میں ایسے افراد ہوں گے جو اپنی صفات اور کاموں کے لحاظ سے بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے اور صحابہ میں تو بکثرت ایسے تھے جو کسی بھی درجہ میں بنی اسرائیل کے نبیوں سے کم نہ تھے مگر ان کی مثال