تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 970 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 970

۹۷۰ اس طرح ہے کہ سورج کی موجودگی میں ستارے چھپ جاتے ہیں پس ہم اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان کی غیر معمولی عظمت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ان ستاروں کو MIRROR (منعکس) کر رہے ہیں۔ورنہ وہ اپنی شان اور اپنے نور میں کم از کم بنی اسرائیل کے نبیوں کے مساوی تھے۔بعد میں آنے والے بزرگوں میں بھی ہر صدی میں شان نبوت پانے والے بزرگان ملتے ہیں۔علاوہ ازیں آپ خود انصاف سے دیکھیں گے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی ، حضرت امام ابن عربی و غیر ہم کیا اپنی شان اور مقام میں بنی اسرائیل کے نبیوں سے کم مقام رکھتے تھے؟ حضور نے فرمایا۔لیکن ایک شخص جس کو نام بھی نبی دیا گیا وہ موعود مسیح ہیں۔ان کے بعد بھی امکان تو اسی طرح قائم ہے جس طرح ماضی میں تھا اور اس کے مطابق ”نبی آئے بھی جن کو نام تو نبی نہیں دیا گیا مگر مقام اور شان نبیوں والی تھی۔مگر رسول اللہ نے ان کو نبیوں کا ساتھ تو فرمایا نبی نہیں۔پس اب اگر آئندہ کوئی نیا نبی آئے گا تو وہ اپنی نبوت کے ثبوت خود مہیا کرے گا اور اسے لازماً یہ ثابت کرنا ہو گا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں اجمالاً یا تفصیلا مسیح کے نزول کے بعد کسی اور شخص کی بھی خبر دی ہے جو نبی کا نام پائے گا۔البتہ جہاں تک میرا علم ہے موعود مسیح کے علاوہ کسی اور کے لئے کوئی حدیث ایسی نہیں ملتی کہ کسی کو آنحضور نے نبی اللہ کے نام سے یا د فرمایا ہو۔بہر حال اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا ، جس کو بھیجے گا اس کو ثبوت بھی مہیا فرما دے گا۔آٹھواں سالانہ اجتماع آٹھواں سالانہ اجتماع مورخہ ۵ - ۶ جولائی ۱۹۸۶ء کو اسلام آباد لفورڈ کے مقام پر منعقد ہوا جس میں سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرائع نے از راہ شفقت شرکت فرمائی۔مجلس عرفان میں انصار کے سوالات کے جوابات دیئے ، خطاب فرمایا اور انعامات تقسیم فرمائے۔﴿۲۲﴾ پہلا یورپین سالانہ اجتماع یورپ کی مجالس انصار اللہ کا پہلا سالانہ اجتماع ۱۲ ۱۳ نومبر ۱۹۸۸ء بروز ہفتہ۔اتوار اسلام آباد (ٹلفورڈ) انگلستان میں منعقد ہوا۔افتتاحی اجلاس زیر صدارت مکرم آفتاب احمد خان صاحب امیر جماعت احمد یہ انگلستان ہوا جنہیں حضور نے خصوصی طور پر مقرر فرمایا تھا۔تلاوت، عہد اور نظم کے بعد مکرم امیر صاحب نے لوائے انصار اللہ لہرایا نیز ان ممالک کے جھنڈے لہرائے گئے جہاں کے انصار نے تفصیل ذیل شرکت فرمائی۔جرمنی ، دس۔ڈنمارک، چھ۔ہالینڈ ، دو۔فرانس ، سپین، سویڈن اور ناروے سے ایک ایک۔اس اجتماع کے جملہ انتظامات مرکزی اجتماعات کی طرز پر ہی کئے گئے تھے۔کرسیوں وغیرہ کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔