تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 608 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 608

۶۰۸ اس الوداعی دعائیہ تقریب کا آغاز زیر صدارت مکرم ناظر صاحب اعلیٰ تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم منصور احمد عمر صاحب قائد تعلیم قرآن نے کی۔مکرم چوہدری صاحب نے عہد د ہر وایا بعد ازاں محترم محمد اسلم شاد صاحب قائد عمومی نے سپاسنامہ پیش کیا جس میں محترم چوہدری صاحب کے سترہ سالہ عہد صدارت کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے مجلس عاملہ کی طرف سے دلی جذبات تشکر امتنان کا اظہار کیا۔۳۵﴾ سپاسنامه دو مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کے زیر اہتمام آج کی یہ خصوصی تقریب محترم و مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس انصاراللہ پاکستان کے سترہ سالہ کامیاب عہد صدارت کے اختتام کے موقعہ پر اپنے دلی جذبات تشکر و امتنان کے اظہار اور دعا کی خاطر منعقد کی گئی ہے۔محترم چوہدری صاحب خدا کے فضل و کرم سے فطر تا اور عملاً پوری طرح روح وقف سے سرشار ہیں۔وقف زندگی اور اعلیٰ تعلیم کے بعد تعلیم الاسلام کالج میں خدمات کے ساتھ ساتھ ایک عام خادم سے لے کر صدر مجلس خدام الاحمدیہ ، ایک ناصر سے لے کر صدر مجلس انصاراللہ مرکز یہ اور صدر انصار اللہ پاکستان، ایک عام کا رکن سے لے کر افسر جلسہ سالانہ اور ایک واقف زندگی کے طور پر مختلف مراحل کے بعد وکیل اعلیٰ تحریک جدید کے عالی منصب تک پہنچنے اور فائز رہنے کے دوران خدا کے فضل سے محترم چوہدری صاحب کی کما حقہ بے لوث ، انتہائی سنجیدہ اور بھر پور توجہ سے مساعی قابل ستائش اور تاریخ احمدیت کا حصہ ہے۔محترم چوہدری صاحب کا عہد صدارت ۱۹۸۲ء سے ۱۹۹۹ ء تک محیط ہے۔اس سے پہلے آپ نائب صدر مجلس تھے کہ سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے منصب خلافت پر متمکن ہونے پر آپ کو صدر مجلس انصار اللہ مرکز یہ نامز دفرمایا۔نومبر ۱۹۸۹ء میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہر ملک کی الگ الگ صدارت قائم فرما دی۔اس وقت سے آج یعنی ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء تک محترم چوہدری صاحب نے بحیثیت صدر مجلس انصار اللہ پاکستان تاریخی خدمات سرانجام دی ہیں۔فجزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔نائب صدر مجلس مرکزیہ کی حیثیت میں آپ نے جرمنی، سوئٹزر لینڈ، سویڈن، ناروے، ہالینڈ، انگلینڈ ، امریکہ اور کینیڈا کا دورہ کیا جس کے ساتھ ہی بعض جماعتی امور کے سلسلہ میں میکسیکو اور جاپان بھی تشریف لے گئے۔ان ممالک کا یہ دورہ محترم چوہدری صاحب کی قوت عمل اور غیر معمولی انتظامی صلاحیت کا زبردست ثبوت ہے۔چنانچہ اس وقت کے صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے فرمایا: