تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 22 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 22

۲۲ سے بچانا ہے پس ہمیں ان دیوانوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔بد رسوم کے خلاف جہاد تیسرے کئی نئی بد رسوم کے خلاف جہاد کا کام ہے۔جسے میں خصوصیت کے ساتھ انصار اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔تحریک جدید کے بہت سے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ دوست اپنی زندگی کو تعیش سے بچا کر سادگی کی طرف لے آئیں۔خدمت اسلام کی جس راہ پر ہم گامزن ہیں، اُس کا یہ تقاضا ہے کہ حرام تو حرام بعض حلال چیزیں بھی ہم چھوڑ دیں تا کہ وہ معاشرہ پیدا کیا جا سکے جو ہمارے مقصد کے حصول میں محمد ہو۔۔۔۔اس لئے اپنے معاشرہ میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔مرور زمانہ سے جو بدیاں رفتہ رفتہ ہمارے معاشرے داخل ہوگئی ہیں ان کی بیخ کنی کا کام شروع کریں۔بیاہ شادی پر بعض بد رسوم ہمارے معاشرہ میں داخل ہو رہی ہیں اسی طرح بے پردگی پھیلتی جارہی ہے اس کے خلاف ایک جہاد کرنا پڑے گا۔پس پیشتر اس کے کہ معاشرہ کی خرابیاں ہمارے اندر مزید نفوذ کریں ہمیں اپنے دفاع کو کناروں پر مضبوط کرنا چاہئے اور اپنی سوسائٹی کو آج کل کے معاشرہ کی برائیوں سے کلیۂ محفوظ کر دینا چاہیئے۔اس ضمن میں بھی مجھے انشاء اللہ تعالیٰ توقع ہے کہ انصار ایک نمایاں کردار ادا کریں گے۔ان کی تلقین اور تعلیم کے ذریعہ خدا کے فضل سے نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔۔۔پس یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے جو انصار کے سپرد کیا جا رہا ہے۔یہ تو لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے والی بات ہے۔انصار ذراسی بھی محنت کریں گے تو انشاء اللہ بہت ہی شاندار، وسیع ، گہرے اور دیر پا نتائج پیدا ہوں گے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں تو فیق عطا فرمائے۔خدا تعالیٰ دن بدن جماعت احمدیہ کو اس اعلیٰ مقصد کی طرف تیزی کے ساتھ لے جانا شروع کرے جس کا ہمیں انتظار کرتے ہوئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے۔اب تو دل بے قرار ہے۔خدا جلد جلد فتح کا وہ دن دکھائے جب ساری دنیا میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جھنڈا بلند ہورہا ہوا ور دوسرے سارے جھنڈے سرنگوں ہو جائیں۔‘، ﴿9﴾ حضور افتتاحی خطاب کے بعد اپنی نشست پر واپس تشریف لے گئے اور اجتماعی دعا کروائی۔مجلس مرکز یہ کا عشائیہ اجتماع کے دوسرے دن سید نا حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجلس انصار اللہ کی درخواست پر ۶ نومبر ۱۹۸۲ء کی رات کو عشائیے میں شرکت فرمائی۔حضور رات آٹھ بجے مقام عشائیہ پر تشریف لائے۔یہ جگہ مسجد کے سامنے جنوبی طرف شامیانے لگا کر بنائی گئی تھی۔حضور کی آمد پر تلاوت قرآن کریم سے