تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 23 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 23

۲۳ کارروائی شروع ہوئی۔اس کے بعد صدر مجلس محترم چوہدری حمید اللہ صاحب نے حضور کی خدمت میں مندرجہ ذیل سپاسنامہ پیش کیا جس میں حضور کے کامیاب و کامران دورے سے واپسی پر حضور کو اراکین انصار اللہ کی طرف سے اھلاً و سہلاً و مرحباً کہا۔سپاسنامه سیدنا وا مامنا السلام عليكم ورحمة الله و بركاته اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضور پُر نور کے پہلے غیر ملکی دورے کو جن بے شمار برکتوں اور رحمتوں سے نوازا ہے ان کے پیش نظر ہم انصار کے دلوں میں اس بات کی شدید خواہش تھی کہ حضورانور کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کریں اور حضور انور کی پاکیزہ صحبت سے زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہوں۔سوالحمد للہ ہماری انتہائی خوش قسمتی ہے کہ ہماری درخواست کو قبول فرماتے ہوئے آج حضور انور ہمارے درمیان رونق افروز ہیں۔ہم نا چیز انصار اللہ خلوص دل اور محبت و احترام کے گہرے جذبات سے مبارکبا د عرض کرتے ہوئے حضور انور کی خدمت میں اَهْلاً وَسَهْلاً وَّ مَرْحَبًا عرض کرتے ہیں۔ہمارے پیارے آقا ! ہم ناچیز انصار کا حضور انور سے ماضی قریب میں بڑا گہرا اور قریبی تعلق رہا ہے۔حضور انور قریباً تین سال بحیثیت صدر مجلس انصاراللہ ہماری رہنمائی فرماتے رہے اور حضور انور کی صدارت کے زریں عہد میں مجلس نے بفضل خدا ہر جہت سے ترقی کی منازل طے کیں۔اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے تحت جماعت پر ایک کڑی آزمائش اور خوف کا عالم طاری ہوا اور اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے خوف کے ازالہ اور تمکنت دین کی خاطر خلیفہ امسیح الرابع کی رفیع الشان حیثیت میں حضور کا وجود باجود ہمیں عطا فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے اس بے پایاں فضل اور عظیم الشان عنایت پر ہمارے دل حمد وثناء سے لبریز اور سر سجدہ کناں ہیں۔قبائے خلافت کے زیب تن ہونے کے ساتھ ہی حضور انور کی ذمہ داریوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ مرکز سے ہزاروں میل دور بسنے والی روحوں کی تربیت کے لئے بھی دورہ یورپ کی صورت میں بروقت اقوام عالم کی تربیت کے سامان مہیا فرما دئیے جو خدا تعالیٰ کی غیر معمولی تائیدات سے عبارت ہیں جن میں صدیوں بعد اندلس میں ایک نئی مسجد کا افتتاح سرفہرست ہے جس کا سنگ بنیاد ۹ اکتوبر ۱۹۸۰ء کو ہم سے جدا ہونے والے محبوب آقا حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے دست مبارک سے رکھا جا چکا تھا۔