تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 21 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 21

۲۱ نے زندگی کا ایک بڑا حصہ دنیا کمانے میں صرف کیا۔اب چھوٹی سی آزمائش آپ کو در پیش ہے وہ اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کریں اور سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں حصہ لیں کیونکہ جتنے زیادہ واقفین اس وقت میسر آ ئیں گے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی ہی تیزی کے ساتھ اسلام کو چہار دانگ عالم میں فتح نصیب ہوگی۔علاوہ ازیں ایسے واقفین بھی چاہئیں جو یہ تو فیق رکھتے ہوں کہ مرکز سے باہر جا کر بھی خدمت دین کر سکیں۔یہ بھی اس قسم کا رضا کارانہ وقف ہوگا۔۔۔پس ایسے زندہ دل اور ایسے جواں ہمت انصار کی ضرورت ہے جو ان نیک ارادوں کے ساتھ اپنے نام پیش کریں کہ انہیں جہاں بھی جس شکل میں بھی خدمت کے کام پر لگایا جائے گا۔وہ اس کو انعام سمجھیں گے۔اللہ کی رحمت تصور کریں گے۔اگر ادنیٰ سے ادنی کام پر بھی لگایا جائے گا تب بھی وہ خوش ہوں گے کہ خدا کے نوکر ہیں۔اگر کام نہیں بھی ہو گا۔اُن کا وقت بظاہر ضائع بھی ہورہا ہو گا تب بھی وہ یہ سمجھیں گے کہ خدا کی خاطر بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔اس سے بہتر زندگی اور کیا ہوسکتی ہے۔خدا کی خاطر یہ بے کاری بھی ہزا ر ہا کا موں سے بہتر ہوتی۔وقف اولا د کی تحریک وقف کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ نوجوان آگے آئیں۔اس لحاظ سے بھی انصار بہت بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ان کو بار بار نصیحت کریں۔ان کو یہ باور کرائیں کہ سب سے زیادہ امن کی زندگی وقف کی زندگی ہے۔سب سے زیادہ سکینت اور طمانیت کی زندگی وقف کی زندگی ہے۔اللہ تعالیٰ واقفین کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔جو واقفین وفا کے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں ، اُن کو خدا کبھی ضائع نہیں کرتا۔اُن کی اولادوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔دنیا بھی پھر اُن کے پیچھے چلی آتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ طمانیت بخش کوئی زندگی نہیں جو خدا کے دین کی خدمت میں صرف ہو رہی ہو۔غرض انصار کو چاہئیے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔دنیا کے لحاظ سے ان کو زیور تعلیم سے خوب مزین کریں اور پھر ان سے کہیں کہ اب اپنے نام خدمت دین کے لئے پیش کرو۔یہ ایک عمومی تحریک ہے جس میں انصار سلسلہ کی بڑی مدد کر سکتے ہیں۔گھر گھر چرچا کر سکتے ہیں اور ایک نئی رو چلا سکتے ہیں تا کہ اس کثرت کے ساتھ واقفین پیش ہوں کہ ہمیں ان میں سے چناؤ کرنا پڑے۔۔۔انشاء اللہ انہی دیوانوں کے ذریعہ سے آج دنیا میں انقلاب برپا ہو گا۔فرزانوں کے ہاتھوں تو دنیا بہت ویران ہو چکی اور اب بالکل تباہی کے کنارے پر جا کھڑی ہے۔احمدیت کے دیوانوں نے دنیا کو اس تباہی