تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 85 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 85

۸۵ سکتے ہیں۔آپ سے یہ تو نہیں کہا جا رہا کہ آپ نے کسی راستہ سے بھی اپنے جذبات نکالنے ہی نہیں۔خدا تعالیٰ کی راہ میں جو آنسو بہتے ہیں اس رستہ سے اپنے جذبات نکالئے ، ۳۸۶) سیدنا حضرت خلیفہ ایسیح الرابع کے اعزاز میں عشائیہ ۲۹ اکتو بر ۱۹۸۳ء کو اجتماع کے دوسرے دن مجلس مرکز یہ نے سنگا پور ، منجی ، آسٹریلیا اور سری لنکا کے کامیاب دورے پر حضور کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا۔اس موقع پر صدر محترم چوہدری حمید اللہ صاحب نے مندرجہ ذیل سپاسنامہ پیش کیا۔”ہمارے دل اپنے رب کی حمد سے لبریز ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ کو اپنے فضل سے پھر ایک دفعہ پورا فرمایا اور حضور کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ دنیا کے کنارہ پر پہنچ کر دعوت الی اللہ دیں اور حضور کو سنگا پور ، نبی ، آسٹریلیا اور سری لنکا کے للہی سفر کی تو فیق ملی۔ہم ممبران مجلس انصار اللہ اس قادر مطلق کے شکر گزار ہیں اور حضور کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کے احسان پر ہدیہ تبرک پیش کرتے ہیں۔اس تاریخی سفر میں آسٹریلیا کے براعظم میں حضورانور نے بیت المہدی اور مشن ہاؤس کا سنگ بنیا د رکھا جہاں خدائے واحد کی پرستش کی جائے گی اور جہاں سے پانچ وقت خدا اور اس کے برگزیدہ رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ سے التجاء ہے کہ وہ قادر خدا اس ملک میں بھی عظیم الشان نیک تغیر پیدا فرمائے اور وہاں کے رہنے والوں کو اپنے آستانہ پر لے آئے۔پیارے آقا ! حضور کی تشریف آوری پر ان ممالک کی جماعتوں میں جو بیداری اور توجہ الی اللہ پیدا ہوئی ہے ، خدا کرے وہ بڑھتی رہے اور ساری جماعت خدا کے فضلوں کو جذب کرتی رہے۔سید نا ! آپ نے 9 ستمبر کو مسجد احمد یہ سنگا پور میں اپنے مولیٰ سے ہر احمدی کے لئے خصوصی دعا کی۔اللہ تعالیٰ اس دعا کو شرف قبولیت بخشے۔ہر سینہ میں دین کی خدمت کے لئے وہ تڑپ پیدا ہو جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ میں موجزن فرمائی ہے۔ہماری آواز میں حضور کی مبارک آواز سے ہم آہنگ ہو کر بھٹکی ہوئی مخلوق کو خدا کے آستانہ پر لے آئیں۔ہم شمع احمدیت کے پروانے بن جائیں۔ہم بھی خدا کے ہو جائیں اور یہ جگ بھی خدا کا ہو جائے۔آمین یا رب العالمین ممبران مجلس انصار اللہ عالمگیر