تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 86
۸۶ حضور کا خطاب اس سپاسنامہ کے جواب میں سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے ایک نہایت روح پرور خطاب فرمایا۔آپ نے تشہد وتعوذ اور تسمیہ کے بعد فرمایا: سب سے پہلے تو میں مجلس انصار اللہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ تقریب پیدا کی جس میں ہم باہمی محبت و اخوت کے ماحول میں اکٹھے بیٹھ کر آج کھانا کھا ئیں گے۔ہر سال میں تقریب ایک خاص رنگ رکھتی ہے۔اور اس میں شمولیت کا بہت لطف آتا ہے۔میرا خیال تو یہ تھا کہ میں انشاء اللہ تعالیٰ آپ سے کل کے آخری خطاب میں سفر سے متعلق کچھ باتیں کروں گا۔پھر اس کے بعد بھی مجلس تحریک جدید کی طرف سے ایک تقریب ہے۔اس میں بیان کرنے کے لئے بھی میں نے ایک حصہ ذہن میں رکھا ہے۔زمین کے کنارہ تک حضرت مسیح موعود کا پیغام پہنچانے کی توفیق خدا تعالیٰ کے فضل سے سفر چونکہ بڑا مصروف تھا اس لئے بہت سی ایسی باتیں ہیں جو پھر بھی رہ جائیں گی اور یاد آتی رہیں گی۔اب بھی بعض دفعہ کچھ ایسی باتیں یاد آتی ہیں جن کی طرف پہلے دھیان نہیں رہا ہوتا مگر جو رپورٹیں شائع ہوں گی۔ان میں انشاء اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ بہت ساری باتیں احباب کے علم میں آجائیں گی۔اب جب ایڈریس میں یہ ذکر کیا گیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے زمین کے ایک کنارہ تک نہ صرف پہنچنے کی بلکہ وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔تو اس پر مجھے یاد آیا کہ یہ بھی کوئی باقاعدہ سکیم کے تابع نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود ایسا انتظام ہوا۔کیونکہ ہمارا ارادہ وہاں جا کر محض وہ جگہ دیکھنا تھی اور دعا کرنا تھی۔اس سے زیادہ کوئی تبلیغی پروگرام میرے ذہن میں نہیں تھا۔لیکن وہاں پہنچنے کے بعد بلکہ عملاً چلنے سے پہلے مجھے یہ بتا دیا گیا تھا کہ وہاں ایک سکول والوں سے ہم نے درخواست کی ہے کہ سکول میں ایک ایڈریس ہو جائے۔وہ چونکہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے اس لئے وہاں زیادہ بڑی جگہ نہیں۔وہی سکول ہی ہے جو ان کی تعلیم کا مرکز ہے اور INTELLIGENTIA وغیرہ وہیں آتے ہیں۔تو ان کا یہ خیال تھا کہ بچوں سے مختصر بات کی جائے اور وہ بھی عام نیکی کی سادہ سی باتیں بچوں کو سمجھانے کے لئے۔اس سے زیادہ کوئی ضرورت نہیں ہے۔لیکن جب میں سکول پہنچا تو ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن تمہید از خود ہی ایسی بن گئی کہ بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ پر جا کرتان ٹوٹی اور بچوں کی زبان میں