تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 84
۸۴ آپ اس سے مہمان کے طور پر بے انتہا اکرام کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔خواہ وہ کیسی ہی نیت سے آئے۔کسی بدارا دے یا گندے ذہن کے ساتھ آیا ہو۔اس کے برعکس دشمن کا کردار بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کئی رنگ میں ثبات قدم رکھتا تھا۔وہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر میں آتے تھے۔آپ کے گھر میں آتے تھے تو نہایت بدتمیزی اور بداخلاقی کا سلوک کرتے تھے۔بعض گالیاں دے کر چلے جاتے تھے۔اور سمجھتے تھے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔اور جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس مہمان جاتے تھے تب بھی آپ سے ان کا سلوک یہی رہتا۔یعنی نہ وہ اپنے سلوک کو بدلتے تھے جب خود مہمان ہوں۔نہ اس وقت بدلتے تھے جب خود میز بان ہوں۔۔۔۔۔پس ہمارے لئے یہ تو صرف ایک ہی کسوٹی ہے اور وہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اخلاق ہیں ہمارے گھروں میں آنے والے جتنی مرضی گندی گالیاں دیں ، حد سے زیادہ دلآزاری بھی کریں تب بھی ہم نے مقابل پر بے صبری کا کوئی کلمہ منہ سے نہیں نکالنا اور جب ہم نے گھر جائیں گے تو ہم دعا ئیں لے کر اُن کے گھر جائیں گے تو بھی ہم دعا ئیں دیتے ہوئے واپس آئیں گے۔یہ ہے وہ کردار جو زندگی کا کردار ہے جو کردار اس کے مقابل پر ہے وہ موت کا کردار ہے تو میں آپ سے کیسے توقع رکھوں کہ آپ زندگی دے کرموت خرید لیں۔ہر گز نہیں۔اس سے زیادہ جاہلانہ سودا اور کوئی نہیں ہوگا۔زندگی کی ہر اُس علامت سے چمٹ جائیں جو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور اُس کے مخالف جتنے بھی علامتیں ہیں وہ موت کی علامتیں ہیں ان سے منہ موڑ لیں۔اور کبھی بھی آنکھ اُٹھا کر اُن کی طرف نہ دیکھیں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومن کے لئے کفر کا خیال ایسا ہی ہے۔جیسے اُسے اٹھا کر جلتے ہوئے تنور میں پھینک دیا جائے پس ہر وہ چیز ، ہر وہ خلق جو حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مقابل پر استعمال ہو وہ جلتا ہوا نور ہے۔آپ کبھی اس میں داخل تنور ہونے کا تصور بھی نہ کیجئے۔جنت وہی ہے جو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں ہے۔ہمیں یہی جنت کافی ہے۔اور ہم جانتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات حسنہ کے سایہ میں ہم آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔کوئی نہیں جو ہمارے قدم روک سکے۔یہ سایہ پھیلنے کے لئے بنایا گیا ہے۔یہ سایہ آگے بڑھنے کے لئے بنایا گیا ہے۔یہ آگے بڑھے گا اور آگے سے آگے بڑھتا چلا جائے گا۔اور پھیلتا چلا جائے گا۔یہاں تک کہ ساری دنیا اس سایہ کی لپیٹ میں آجائے گی۔(انشاء اللہ تعالیٰ ) دعا کر لیجئے۔آپ کو جو گالیوں سے دکھ ہوتا ہے اس کے لئے دعا ہی تو ایک ایسا موقعہ ہے جس میں آپ اپنے سارے دبے ہوئے جذبات نکال