تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 565 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 565

پاکستان ، مکرم چوہدری اللہ بخش صادق صاحب ناظم ارشاد وقف جدید انجمن احمد یہ مکرم محمد اسلم شاد صاحب منگلا قائد عمومی ، مکرم رفیق احمد صاحب ثاقب قائد تعلیم اور مکرم ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب شامل ہوئے۔اس تقریب کا انتظام المہدی ہسپتال کی عمارت کے سامنے لان میں کیا گیا۔یہ تقریب صدر مجلس انصار اللہ پاکستان کی صدارت میں شروع ہوئی۔تلاوت قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم ہے شکر رب از وجل خارج از بیاں کے بعد صدر مجلس نے اپنے خطاب میں المہدی ہسپتال کی تکمیل کے سلسلہ میں مختلف مراحل کی رپورٹ پیش کی اور فرمایا کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا نتیجہ ہے کہ اس نے ہماری حقیر کوششوں میں برکت عطا فرمائی اور ہمیں اس عظیم کام کے مکمل کرنے کی توفیق بخشی۔ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر بجالائیں کم ہے۔آپ نے دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس پیشکش کو اپنے فضل سے قبول فرمائے اور اس ہسپتال کو ہم سب کے لئے مبارک فرمائے اور بنی نوع انسان کے لئے اسے ہر لحاظ سے نافع بنادے۔آخر میں ان سب احباب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں اس خدمت میں حصہ لیا اور ان کیلئے دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازے۔اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احباب کا ذکر کیا۔مکرم محمد عمر قمر صاحب انچارج اوور سیر ، مکرم غلام حسین صاحب ، مکرم مبارک احمد عابد صاحب کا رکنان دفتر انصار اللہ پاکستان ، مکرم ٹھیکیدار محمد صدیق صاحب، مکرم میجر بشیر احمد طارق صاحب ( بجلی اور دیگر کاموں کے سلسلہ میں مدد کر نے والے ) مکرم چوہدری محمود احمد صاحب ، مکرم چوہدری مبارک احمد صاحب اور چوہدری شبیر احمد صاحب ( ٹریکٹروں سے زمین ہموار کرنے سے مدد کی ) اور مکرم راجہ علی شاہ صاحب جنہوں نے بجلی سپلائی کرنے میں مدد کی۔صدر مجلس نے اپنے مختصر خطاب کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے شکر دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مکرم اللہ بخش صادق صاحب ناظم ارشاد وقف جدید کی خدمت میں المہدی ہسپتال کی چابی پیش کرتا ہوں۔مکرم ناظم صاحب ارشاد نے چابی وصول کرنے کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے۔یہ ہسپتال اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا“ کا مصداق ثابت ہو۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فارسی شعرے مرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمت خلق است ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسم ہمیں راہم پڑھتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس شعر کی عملی تصویر پیش کرنے کی توفیق بخشے۔آخر میں صدر صاحب مجلس انصار اللہ پاکستان نے دعا کروائی۔اس کے بعد ہسپتال کی عمارت کھول دی گئی۔سب احباب نے اس عمارت میں گھوم پھر کر ہسپتال کے جملہ کمروں کو دیکھا۔اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ایک بجے نماز جمعہ وعصر ادا کی گئیں جس کے بعد احباب کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔قریباً دو بجے یہ سادہ اور