تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 551
۵۵۱ ایسے ہی ایک خوش نصیب جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک وجود سے برکت پائی، پارس ہوئی اور ایک عالم کو برکت بانٹی ، حضرت مولوی محمد حسین صاحب سبز پگڑی والے تھے۔آپ ۱۹۰۲ء میں پہلی بار بیعت سے مشرف ہوئے اور پھر تقریباً پچاس بار دستی بیعت کی سعادت ہوئی۔۱۹۲۳ء میں آپ نے زندگی وقف کر کے حضرت اقدس بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے روحانی مجاہدین میں شمولیت اختیار کی اور ایک طویل عمر خدمات دینیہ بجالا کر آخری سانس تک اس عہد کو نبھاتے رہے۔آپ برصغیر کے مختلف شہروں اور پھر قیام پاکستان کے بعد جہلم اور گجرات میں پورے اخلاص اور بے لوث جذبہ سے دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔شدھی کی تحریک اور کشمیر میں بھی خدمت دین بجالانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ایک طویل مدت تک آپ نے نظارت اصلاح و ارشاد مقامی کے تحت کام کر کے جماعتوں کو بیدار کیا۔آپ نہایت دلنشیں پیرائے میں مؤثر تقریر فرماتے۔آپ ایک ایسے محبوب مقرر تھے جو سادہ بیان کے باوجود دلوں میں اُتر جاتے تھے۔آپ غیر معمولی قوت حافظہ کے مالک تھے حتی کہ بڑھاپے کے باوجود آخری ایام میں بھی حافظہ قابلِ رشک تھا۔آپ کو یہ غیر معمولی اعزاز حاصل تھا کہ آپ نے ۱۹۸۷ء میں حضرت سیّدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ ” دختِ کرام“ اور ۱۹۸۸ء میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی نماز جنازہ ربوہ میں سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشادِ مبارک پر پڑھائی۔اس کے علاوہ ۱۹۸۳ء میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسٹریلیا جانے کی دعوت دی اور بیت الہدی کے سنگ بنیاد کی تقریب میں آپ کو بھی شریک فرمایا۔۱۹۸۹ء میں صد سالہ جشن تشکر کے سال حضرت سیّد نا خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص طور پر لندن آنے کی دعوت دی اور اس تاریخ ساز جلسہ سالانہ میں آپ کو سٹیج کے اوپر کرسی پر بٹھا کر حضور انور نے ارشاد فرمایا: آپ سب خوش نصیب ہیں جنہوں نے اس سے قبل کسی رفیق کو نہیں دیکھا کہ وہ آج حضرت بانی سلسلہ کے ایک رفیق کو اپنی جسمانی آنکھوں سے بھی دیکھ رہے ہیں۔“ پھر فرمایا: یہ حضرت بانی سلسلہ کو دیکھنے والے تبرکات میں سے ایک ہیں۔“ آپ کو ۱۹۹۱ء میں قادیان کے تاریخی جلسہ سالانہ میں بھی شمولیت کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ کے ۱۹۸۶ء تا ۱۹۸۹ء رکن خصوصی رہے۔بعدازاں