تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 552
۵۵۲ وفات تک آپ مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان کے رکن خصوصی تھے۔( ۱۹۹۰ ء تا ۱۹۹۴ء) اس طرح بفضل اللہ تعالیٰ ایک لمبا عرصہ خدمات دینیہ کی تو فیق پا کر ایک سو ایک سال کی عمر میں آپ مورخہ ۱۹ جون ۱۹۹۴ء کو رات ساڑھے دس بجے اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اس رفیق کو جنت میں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور وہ برکت جوانہوں نے پائی تمام جماعت میں نسلاً بعد نسل جاری وساری رہے اور اللہ تعالیٰ مجلس انصار اللہ کے اراکین کو اُن کے نقش قدم پر چلائے اور ان کے اس رنگ میں رنگین کرے جو انہوں نے اپنے پیارے آقا سے حاصل کیا۔اس المناک وفات پر مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان اور تمام ممبران انصار اللہ پاکستان حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مولوی صاحب کے اعزاواقرباء سے خصوصاً اور تمام احباب جماعت سے عموماً گہرے غم اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ایک جماعتی صدمہ ہے۔بع خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را (۱۳) عالمی بیعت کے سلسلہ میں مساعی اور حضور انور کے ارشاد مبارک محترم صدر مجلس کی طرف سے ۱۳ فروری ۱۹۹۴ء کو لکھی ہوئی رپورٹ بابت بیعت تین سو چھپیس افراد کے پیش ہونے پر فرمایا : الحمد الله اللهم زد و بارک و ثبت اقدامھم۔ابھی تو بہت سفر باقی ہے اور دن ڈھلنے لگا ہے۔“ اسی طرح عالمی بیعت کے بعد حضور انور نے ۱۸ اگست ۱۹۹۴ء کولندن سے مندرجہ ذیل خط صدر محترم کے نام تحریر فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال عالمی بیعت کے موقع پر مجلس انصار اللہ پاکستان کو اڑھائی ہزار سے زائد بیعتیں پیش کرنے کی توفیق ملی ہے۔الحمد لله، اللهم زد و بارک و ثبت اقدامهم جزاكم الله تعالى احسن الجزاء۔امسال آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی گنا آگے بڑھنا ہے۔دوگنا تو آپ نے بہر حال ہونا ہے لیکن آپ کی استعداد میں اس سے بہت زیادہ ہیں۔خدا کرے کہ امسال مجلس انصار اللہ پاکستان دس ہزار سے آگے بڑھنے کی سعادت پائے۔نو بیعت کنندگان کی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں۔انہیں با شمر داعی الی اللہ بنا دیں اور تبلیغی مہمات میں شامل کریں۔