تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 31
۳۱ بنی نوع انسان سے ہمدردی اور پیار کے وہ جذبات جن کو تصور میں لانا محال ہے۔یہ وہ اعلیٰ درجہ کی صفات ہیں جو ہمیں حضور کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے جا بجا نظر آتی ہیں۔حضرت مسیح موعود کے ایک بلند مرتبہ ساتھی جنہیں حضور کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔یعنی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب تحریر فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت رؤف و رحیم تھے سخی تھے۔مہمان نواز تھے۔امجمع الناس تھے۔ابتلاؤں کے وقت جب کہ لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے۔آپ شیر کر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔عفو، چشم پوشی ، فیاضی، خاکساری، وفاداری، سادگی، عشق الہی محبت رسول، ادب بزرگانِ دین ، ایفائے عہد ، حسنِ معاشرت ، وقار، غیرت ، ہمت ، اولوالعزمی ، خوش روئی اور کشادہ پیشانی آپ کے ممتاز اخلاق تھے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس وقت دیکھا جب میں دو برس کا بچہ تھا۔پھر آپ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں ستائیس سال کا جوان تھا۔مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آپ سے بہتر ، آپ سے زیادہ خوش اخلاق، آپ سے زیادہ نیک، آپ سے زیادہ بز رگا نہ شفقت والا ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق رہنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔آپ ایک نور تھے جو انسانوں کے لئے دنیا پر ظاہر ہوا۔اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور اسے شاداب کر گئی۔“ ایک دفعہ حضرت اقدس کے قدیم اور فدائی صحابی حضرت منشی محمد اروڑا صاحب نے ایک عیسائی کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ”ہم تو ان کے منہ کے بھوکے تھے۔اور پھر حضور کی یاد میں بے چین ہو کر اس طرح رونے لگے جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی جدائی میں بلک بلک کر روتا ہے۔غرض اپنے عزیزوں اور دوستوں سے ایسی مادرانہ شفقت کا نمونہ حضور کی حیات طیبہ میں نظر آتا ہے۔حضور اپنے مہمانوں کے متعلق فرماتے ہیں: مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سبحان من برانی صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جذ بہ تحصیل علم صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جذ بہ تحصیل علم کے عنوان کے تحت مکرم مولانا فضل الہی صاحب بشیر نے تقریر کی اور بتایا کہ اصحاب الصفہ رضی اللہ عنہم نہایت غریب اور نادار لوگ تھے۔دن کے وقت جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اور باہر سے شہر میں پانی بھر کر لاتے اور رات کو پڑھتے اور عبادت کرتے تھے۔ان میں سرفہرست حضرت ابو ہریرہ کا ذکر آتا ہے۔آپ نے خود کو ایک بے نو افقیر کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈالا ہوا تھا اور سایہ کی طرح ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے۔کئی کئی دن فاقوں کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ کر