تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 32
مسجد میں ہی پڑے رہتے۔مبادا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لا کر کوئی ارشاد فرما ئیں اور وہ اس کے سننے سے محروم رہ جائیں۔حصول علم کے اسی شوق کا نتیجہ تھا کہ آپ کی روایات احادیث کی تعداد پانچ ہزار تین سو چوہتر ہے اور آپ کے آٹھ سوشا گر تھے۔بیئر معونہ کی جنگ میں ستر حفاظ قرآن شہید ہوئے۔ان کے متعلق لکھا ہے کہ وہ دن کے وقت جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی گزر اوقات کرتے اور رات کا اکثر حصہ حفظ قرآن اور عبادت الہی میں گزارتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کسی خاص غرض کے تحت حفاظ کی مردم شماری کروائی تو معلوم ہوا کہ فوج کے ایک دستہ میں تین سو سے زائد حفاظ تھے۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورتوں کو بھی اس قدر حصول علم کا شوق تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کی خدمت میں آتیں اور بلا جھجک مسائل دین دریافت کرتیں اور کبھی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بلا واسطہ بھی پوچھ لیتیں۔صحابہ کرام میں حصول علم کا شوق اس قدر تھا کہ جوصحا بہ کسی وجہ سے مدینہ سے کسی قدر فاصلہ پر اقامت رکھتے تھے ، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری کے لئے آپس میں باری مقرر کر لیتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ ایک روز خود حضور کے دربار میں حاضر ہوتے اور دوسرے روز اپنے پڑوسی حضرت عتبان بن مالک کو بھیجتے۔آپ واپس آکر اس روز کی بات پڑوسی کو سناتے اور دوسرے روز ان سے خود سنتے۔انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ دینی علوم کی طرف خاص توجہ دیں۔خود شوق سے علم حاصل کریں اور اپنی اولادوں کو دینی تعلیم دلائیں۔وہ وقت جلد آنے والا ہے جب تو میں دین سیکھنے کے لئے جوق در جوق آپ کو تلاش کریں گی۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا دورہ مغرب م مسعود احمد صاحب دہلوی ایڈیٹر روز نامہ الفضل نے جو حضور کے اس تاریخی دورہ میں ساتھ بر۱۹۸۲ء رہے، اپنے مقالہ میں کہا : سید نا حضرت خلیفہ المسح الرابع کا اپنے عبد خلافت کا پہلا دورہ یورپ ۳۰ جولائی سے اکتوبر ۱۹۸ء تک جاری رہا۔یہ اپنے دور رس نتائج اور انقلاب انگیز اثرات کے لحاظ سے ایک تاریخ ساز دورہ تھا۔اس دورہ میں حضور نو ممالک یعنی ناروے، سویڈن، ڈنمارک، مغربی جرمنی ، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ ، پین اور انگلستان میں تشریف لے گئے۔اس تاریخ ساز دورہ کے نتیجہ میں ان ملکوں کی جماعت ہائے احمد یہ اور اُن کے مخلص و فدائی احباب میں ایک نئی بیداری اور قربانی و ایثار کی ایک نئی روح پیدا ہوئی۔پھر یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے