تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 30 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 30

کارروائی کرسکیں۔لیکن جونہی سنہ 4 ہجری میں خدا تعالیٰ کی تقدیر نے مخالفین اسلام کو مسلمانوں کے ساتھ صلح اور امن کے ساتھ رہنے پر مجبور کر دیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیرونی دنیا کی طرف بھی توجہ فرمائی۔صلح حدیبیہ کے معاً بعد حضور نے متعدد بادشاہوں اور فرمانرواؤں کو تبلیغی خطوط لکھوائے۔ان کی تعداد انتیس بتائی جاتی ہے۔ان خطوط کی اہمیت کے پیش نظر ان پر مہر لگانے کے لئے حضور نے بطور خاص چاندی کی ایک انگوٹھی تیار کروائی جس میں محمد رسول اللہ کے الفاظ کندہ کروائے گئے۔پھر حضور نے اس بات کوملحوظ رکھا کہ ان خطوط کو لے کر ایسے آدمی جائیں جو مکتوب الیہ کی زبان جانتے ہوں۔آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم بھی اس مبارک طریق تبلیغ کو زیادہ اہمیت کے ساتھ اختیار کریں۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی وفود محترم مولانا غلام باری سیف صاحب نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی وفود کے موضوع پر خطاب میں بیان کیا کہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ خدا کے برگزیدہ رسول نے فریضہ تبلیغ کو کما حقہ سرانجام دیا۔حجۃ الوداع کے موقعہ پر لاکھوں صحابہ نے اس امر کی شہادت دی کہ حضور نے خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت سے فرمایا کہ وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ۔تو آپ نے ایک ایک قبیلے کو پکارا اور خدا کا پیغام دیا۔جب خدائی حکم ملا فاضدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ تو آپ نے اس طرح پیغام پہنچایا کہ حج کے موسم میں ایک ایک خیمہ میں جاتے اور انہیں خدا کا پیغام پہنچاتے۔مکہ والوں نے جب خدا کے پیغام کو قبول کرنے سے انکار کیا تو حضور نے طائف کا سفر اختیار فرمایا۔اوباشوں نے خدا کی مجسم رحمت کو پتھروں سے لہولہان کر دیا لیکن آپ مایوس نہ ہوئے۔بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے۔حدیبیہ کے موقعہ پر بھرے ہوئے قریش کو سمجھانے کے لئے آپ نے حضرت عثمان کو سفیر امن بنا کر بھجوایا۔واقعہ ہجرت سے قبل اہلِ مدینہ میں تبلیغ کے لئے آپ نے بارہ نقیب مقرر فرمائے۔غرضیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کی خاطر ہر طریق اختیار فرمایا۔اس راہ میں حضور اور آپ کے صحابہ کو بہت دکھ دئے گئے لیکن پیغام حق کا سلسلہ کبھی بند نہ ہوا۔آج بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ انصاراللہ میدان تبلیغ میں اتریں اور ایک جنون کی کیفیت کے ساتھ اس فرض کو ادا کریں اور اس راہ کی ہر مشکل کو خندہ پیشانی سے قبول کریں۔ذکر حبیب“ ذکر حبیب“ کے موضوع پر مکرم ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب نے اپنے مقالہ میں بیان کیا کہ ہمارے پیارے آقا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے تمام پہلو اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ ہمارے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں۔اللہ تعالیٰ سے بے انتہاء پیار، توحید خالص سے اعلیٰ درجہ کی وابستگی اور شرک سے کلی طور پر بیزاری، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق ، امت محمدیہ سے حد درجہ محبت ،