تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 483
۴۸۳ اور ماتحت مجالس میں بھی نائب زعماء تعلیم القرآن اور منتظمین تعلیم القرآن مقرر کیے جائیں۔جو کیسٹس حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنی نگرانی میں تیار کر وائی ہیں وہ مجالس کو مہیا کی جائیں۔-۔حضور کے ارشاد کے مطابق مقامی طور پر کمیٹیاں اس غرض کے لیے مقرر کی جائیں۔۱۰ - آڈیو ویڈیو کے آلات کے استعمال سے واقفیت کرائی جائے۔11- ۱۱ مجلس شوری کے متفقہ رائے تھی کہ مجلس عاملہ پاکستان ایک کمیٹی مقرر کر دے جو ان تجاویز کی روشنی میں حضور کے ارشاد کی تعمیل کے لئے تفصیلی منصوبہ بندی کرے اور اسکی نگرانی کرے۔مجلس شوری کی ان تجاویز کوصدر مجلس نے اپنی سفارش سے سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی خدمت میں بھجوایا جنہیں حضور انور نے منظور فرمالیا۔تعلیم القرآن کمیٹی کا قیام حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی اس سکیم پر بہتر رنگ میں عملدرآمد اور کام کی نگرانی کے لئے شوری ۱۹۹۱ء کی سفارش کے مطابق صدر محترم نے ایک کمیٹی تشکیل دی اور مندرجہ ذیل دس احباب کو اس کمیٹی کا ممبر مقر ر فرمایا۔(۱) قائد تربیت (۳) قائد وقف جدید (۵) ناظم ضلع لاہور (۷) ناظم ضلع مظفر گڑھ (۹) ناظم ضلع گوجرانوالہ (۲) نائب قائد تربیت (۴) زعیم اعلی مجلس مقامی ربوه (۶) ناظم ضلع پشاور (۸) ناظم ضلع چکوال (۱۰) زعیم مجلس دا تہ زید کاضلع سیالکوٹ ۳۱ جنوری ۱۹۹۲ء کو اس کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا اور پھر وقفہ وقفہ سے اس کے اجلاس ہوتے رہے۔الگ قیادت کا قیام مئی ۱۹۹۲ ء تک حضور کی اس سکیم پر قیادت تربیت کے ماتحت کام ہوتا رہا۔مجلس انصاراللہ پاکستان شوریٰ منعقدہ نومبر ۱۹۹۱ء کے فیصلہ کے مطابق مئی ۱۹۹۲ء میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے تعلیم القرآن کی الگ قیادت قائم کی گئی اور سب سے پہلے قائد مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب مقرر ہوئے۔قیادت کی کارکردگی کا خلاصہ (۱) مجلس شوری ۱۹۹۱ء میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی دی گئی سکیم پڑھ کر سنائی گئی۔(۲) اس شوری کے تمام نمائندگان نے مکرم صوفی بشارت الرحمان صاحب کا خطبہ بھی سنا جو صحت کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے کے موضوع پر دیا گیا۔۔(۳) فروری اور اپریل ۱۹۹۲ ء کے ماہنامہ انصار اللہ کے شماروں میں تلاوت کے بنیادی اصول اور آداب پر