تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 340 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 340

۳۴۰ اپنے مسائل رکھتے اور ہدایات لیتے ہیں۔اسی طرح باقی دنیا کے صدر ان بھی براہ راست خلیفہ وقت سے تعلق رکھیں اور انہیں مرکزی مجالس کا واسطہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔حضور نے یہ اہم اعلان ۳ نومبر ۱۹۸۹ء کو بیت الفضل لندن میں خطبہ جمعہ کے دوران فرمایا۔حضور کے خطبہ کا متعلقہ حصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔جماعت کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے تقاضے وقت کے ساتھ ساتھ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی چلی جارہی ہیں اور جہاں تک نظام خلافت کا تعلق ہے۔بظاہر بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے نتیجے میں اس کو براہ راست پھیلتے ہوئے کاموں سے واسطہ نہیں رہنا چاہئے اور سلسلہ وار بیچ میں دوسرے واسطوں کو پیدا ہونا چاہیے کیونکہ یہی دنیا کا نظام ہے اور اسی طرح دنیا کے نظام بڑھتے اور پھیلتے ہیں۔لیکن جماعت احمدیہ میں یہ صورت نہیں ہے خلافت کے ساتھ نظام کے ہر جز اور ہر شعبے کا ایک ایسا گہرا براہِ راست تعلق ہے کہ یہ تعلق محض نظام جماعت کے شعبوں سے ہی نہیں ان سے پار اُتر کر ہر فرد بشر سے بھی جہاں تک ممکن ہے، یہ تعلق قائم ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ تعلق کے دائرے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔بظاہر یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے اور دنیا کے دانشور جنہوں نے غور اور قریب سے جماعت احمدیہ کا مطالعہ کیا ہے ، وہ یہی نتیجہ نکالتے ہیں۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ مکن ہوتا چلا جارہا ہے بلکہ اس کی ضرورت اور بھی زیادہ شدت سے محسوس ہورہی ہے۔- کینیڈا سے شائع ہونے والی ایک کتاب ابھی حال ہی میں ایک ایسی کتاب کینیڈا سے شائع ہوئی ہے جس کا میں نے گذشتہ خطبہ میں بھی ذکر کیا تھا۔پروفیسر نینوگلٹیری NINO GULTAIRY نے ایک کتاب لکھی ہے کانشنس اینڈ کوارشن CONSCIENCE AND COERCION۔اس میں جماعت احمدیہ کے نظام کا مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذہانت کی وجہ سے بہت گہرائی میں اُترے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ خلافت کا جماعت کے ساتھ رابطہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرے لئے یہ ایک نا قابل یقین چیز تھی مگر میں نے غور سے دیکھا تو یہ نا قابل یقین چیز واقعہ موجود پائی۔وہ کہتے ہیں کہ میرے لئے بہت مشکل ہے کہ میں صحیح معنوں میں بیان کر سکوں جو میں نے دیکھا ہے مگر خلاصہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ خلافت اور جماعت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور دونوں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ باہم پیوست ہیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ شخصیت کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔اپنے محبت کے تعلق میں ، اپنے نظام کے تعلق میں،